Pakistan-and-IMF.jpg

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاگیا


حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے، پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالر مل جائیں گے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی حکام اورعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جب کہ جولائی سے پیٹرولیم پر مرحلہ وار 50 روپے فی لیٹر لیوی لگانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر دوبارہ ٹیکس متعارف کروایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے اقدامات پر بھی رضامندی ظاہر کردی ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم دو ہفتے کے دوران پاکستان کا دورہ کرے گی ، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالر دیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کے معاشی اقدامات پر اتفاق کیا ہے اور بجٹ اہداف سے بھی متفق ہے جبکہ آئی ایم ایف سے معاہدے سے متعلق اعلامیہ بھی جلد جاری کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان اگلے سال کے دوران میکرو اکنامک استحکام بہتر بنانے کی پالیسیوں پر آج مزید مزاکرات ہوں گے۔

وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کے ساتھ بات چیت کے آخری دور کے بعد میٖڈیا کو بتایا کہ آئی ایم ایف مالیاتی اہداف پر اسٹیٹ بینک سے مشاورت کرے گا۔ معاہدے کے بعد بجٹ کا حجم 9.9 ٹریلین روپے ہو جائے گا جو کہ وزیر خزانہ کی طرف سے 10 جون کو پیش کیے گئے بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے تک بڑھ جائے گا۔

وزیر خزانہ نے 10 جون کو 9.5 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کیا تھا جو اس مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ سے بمشکل 4 فیصد زیادہ تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا محصولات کا ہدف بجٹ میں تجویز کردہ 7 ٹریلین روپے کے مقابلے میں بڑھا کر 7.440 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، اس کے لیے 24 فیصد شرح نمو درکار ہے جو ڈبل ڈیجٹ انفلیشن کے دوران مسئلہ نہیں ہونی چاہیے۔

عالمی ادارے کے ساتھ طے پانے والے 6 ارب ڈالر کے معاہدے میں سے 3 ارب ڈالر ابھی تک پاکستان کو نہیں دیئے گئے۔  وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے سے پروگرام کا حجم 8 ارب ڈالر کرنے اور اس کی مدت اگلے سال جون تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔

اس معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کو بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھانا پڑیں گی۔اب براڈ بیسڈ ایگریمنٹ اور سٹاف لیول ایگریمنٹ کا انحصار آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری پرہوگا۔

آئی ایم ایف اب مرکزی بینک کے ساتھ مل کر مقامی اثاثوں کے بجائے نیٹ بیرونی اثاثوں،نیٹ انٹرنیشنل ریزروز اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اہداف کوحتمی شکل دے گا۔ وزیرخزانہ نے امید ظاہرکی ہے کہ اب عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے میمورنڈم فاراکنامک اینڈ فنانشنل پالیسیز(MEFP) پیر تک موصول ہوجائے گا۔

اگرچہ یہ براڈ ایگریمنٹ سٹاف لیول معاہدے کیلئے ناکافی ہے تاہم اس سے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں چارماہ سے پھیلی ہوئی بے یقینی کی کیفیت ختم ہوجائے گی جس کی وجہ سے ملکی کرنسی کوبھاری قیمت چکانا پڑی ہے اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد ختم ہونے سے مہنگائی کی لہر موجود ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف سے مزاکرات پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مزاکرات نتیجہ خیز ہوں گے اور بہت جلد معاشی بحران پر قابو پالیا جائے گا۔

اس حوالے سے گذشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا بھی اجلاس ہوا جس میں ملک کی معاشی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی تھی۔



Source link