Ordinary waiter in the university canteen

یونیورسٹی کی کینٹین کا معمولی ویٹر گریجویشن تک کیسے پہنچا ..

میں نے کمرے میں لکھ کر لٹکایا تھا کہ…. یونیورسٹی کی کینٹین کا معمولی ویٹر گریجویشن تک کیسے پہنچا اور یونیورسٹی کے طلباء نے اس کے ساتھ کیا کیا؟

یونیورسٹی کے ہوٹل میں طالب علموں کو پلیٹ میں بار بی کیو رکھ کے دینے والا ایک معمولی ویٹر ملک کی نامی گرامی یونیورسٹی سے گریجویٹ کرلے گا یہ تو کوئی نہیں سوچ سکتا تھا۔

والد کی وفات کے بعد ویٹر کی نوکری کرنی پڑی
انصار علی پنجاب کے ننکانہ صاحب سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں والد کی وفات کے بعد گھر چلانے کے لئے نویں جماعت میں تعلیم چھوڑنی پڑی۔ محنت اور پریشانی کے باوجود انصار کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ انصار کہتے ہیں “مجھے یاد ہے میں اسکول کا انتہائی لائق طالب علم تھا اور ویٹر کے طور پر بھی سب کا پسندیدہ تھا۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ مشکلات ہیں تو کیا ہوا میں ابھی بھی طالب علموں کو سن سکتا ہوں اور ان سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں”

یونیورسٹی کے طالب علموں کی مدد
سالار خان جو LUMS یونیورسٹی 2014-2015 میں طلبہ کونسل کے صدر تھے وہ انصار کی کہانی ٹوئٹر پر شئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” انصار کی مسکراہٹ سے کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کتنا دکھی ہے” اس لئے اس کی علم کے لئے لگن کو دیکھتے ہوئے سالار اور یونیورسٹی کے باقی طالب علموں نے انصار کی مدد کا فیصلہ کیا اور مطلوبہ رقم اکھٹی کرنے کے بعد انصار کو خوشخبری سنائی کہ وہ اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے انصار کو اپنی والدہ سے اجازت لینی تھی۔ انصار گھر گیا وہاں اس کی والدہ جو جو جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا کافی لائق ہے۔ انصار کے گھر میں آج بھی ایک دہائی قبل اسے پانچویں جماعت میں اول نمبر پر آنے پر ملنے والا سرٹیفیکیٹ ملا تھا۔ انصار کی والدہ نے بیٹے کو دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کہ اجازت دیدی لیکن گھر چلانے کے لئے ابھی بھی انصار کو پیسے چاہیے تھے ۔ یونیورسٹی کے طالب علموں نے یہاں بھی انصار کی مدد کی اور ہر ماہ اسے 30 ہزار ماہانہ گھر کا خرچ بھیجنے کے علاوہ اس کی تعلیم کا سارا خرچہ بھی اٹھایا۔

میں نے کمرے میں لکھ کر لٹکایا تھا کہ مجھے 800 نمبر لانے ہیں
انصار جنھیں یونیورسٹی میں ایڈمیشن سے پہلے انٹر میں 800 نمبر لانا ضروری تھا وہ کہتے ہیں یاددہانی کے لئے انھوں نے یہ لکھ کر لگا لیا تھا کہ مجھے ہر حال میں آٹھ سو نمبر لانے ہیں۔ انصار کی محنت رنگ لائی اور 800 سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ان کو زیبسٹ یونیورسٹی کی جانب سے اسکالرشپ بھی دی گئی اور وہاں ان کا ایڈمیشن ہوگیا۔

انصار کا پیغام
تقریباً دو مہینے بعد انصار زیبسٹ سے اکاؤنٹنگ اور فنانس میں بیچلر مکمل کرلیں گے۔ انصار کہتے ہیں کہ “کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اپنی توجہ زندگی کے مقصد پر مرکوز رکھنی چاہئے”

Leave a Reply