کورونا پابندیاں، برطانیہ سے کیوں باہرجا رہے ہیں؟ اب بتانا پڑے گا

کورونا پابندیاں، برطانیہ سے کیوں باہرجا رہے ہیں؟ اب بتانا پڑے گا

کورونا پابندیاں، برطانیہ سے کیوں باہرجا رہے ہیں؟ اب بتانا پڑے گا

لندن/ہیلی فیکس/راچڈیل : بیرون ملک سے برطانیہ آنے والوں کیلئے ’’لوکیئرفارم‘‘ بھرنا تو لازمی تھا لیکن اب برطانیہ سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو ’’ڈیکلریشن فارم‘‘ بھر کر ایئرپورٹ جانا ہوگا۔ ڈپارٹمنٹ فار ٹرانسپورٹ کے مطابق پیر سے نافذ ہونے والی اس پابندی پر عمل نہ کرنے والے مسافروں کو دو سو پائونڈ جرمانہ کیا جائے گا۔ ان اقدامات کا اعلان ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے 27 جنوری کو کیا تھا۔ تین صفحات پر مشتمل ڈیکلریشن فارم میں مسافر کو ذاتی معلومات فراہم کرنے کے علاوہ بیرون ملک جانے کی وجہ کا تعین کرنا ہوگا۔ فی الحال انگلینڈ میں لاک ڈائون کی پابندیوں کے سبب انٹرنیشنل ٹریول کی اجازت صرف محدود وجوہ کی بناء پر دی جارہی ہے، جن میں کام، تعلیم، رضا کار، طبی وجوہ یا جنازے میں شرکت وغیرہ ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پورٹس اور ائرپورٹس پر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور پولیس کا یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ مسافروں سے ڈیکلریشن فارم طلب کرکے چیک کرسکے۔ فارم بھرے بغیر ائرپورٹ پہنچ جانے والے مسافروں کو دو سو پائونڈ جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور جو افراد معقول وجہ کے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کریں گے انہیں واپس گھر بھیج دیا جائے گا اور کورونا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے باہر نکلنے پر 200 پائونڈ کا فکسڈ پنالٹی نوٹس بھی جاری کیا جائے گا اور متعلقہ شخص کی طرف سے قواعد کی ہر مرتبہ خلاف ورزی پر جرمانہ دوگنا ہوکر 6 ہزار 400 پائونڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ائرپورٹس پر مسافروں کو چھوڑنے کیلئے ایک سے زائد افراد کو ائرپورٹ آنے پر بھی جرمانے کرنا شروع کردیئے گئے ہیں۔

ٹوری ممبر پارلیمنٹ ہنری اسمتھ نے نئی پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی دستاویز کا کوئی مقصد نظر نہیں آیا اس سے لوگوں کو سفری مشکلات پیش آ سکتی ہیں ضروری وجوہات کی بنا پر سفر کرنیوالے مسافروں کو دستاویزات نہ رکھنے پر دو سو پائونڈ کا جرمانہ مناسب عمل نہیں لگتا سفری دستاویزات کے معاملے میں ہمارے پاس پاسپورٹ موجود ہیں اگر ہم بین الاقوامی سطح پر سفر کرنے جارہے ہیں یا اگر ہم مقامی طور پر سفر کرتے ہیں تو ڈرائیونگ لائسنس استعمال کریں گے ایسی نئی پابندیاں شہری آزادی اور شعبہ ہوابازی کی صنعت کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مترادف ہے ۔

ٹریول کنسلٹنسی کے چیف ایگزیکٹو پی سی ایجنسی اور سیف اوور سمر مہم کے شریک بانی پال چارلس نے کہاکہ کاروباری مسافروں کیلئے پیچیدگیاں سامنے آ ئیں گی ہمیں ملک کوبین الاقوامی مسافروں کیلئے کھولنا چاہیے کسی کو جانے سے روکنے کیلئے دروازے پر تالے نہیں لگانے چاہیں دوسری طرف ڈی ایف ٹی کے ترجمان نے کہاہے کیریئرز بورڈنگ سے پہلے فارموں کی جانچ پڑتال کریں گے چیک ان میں یا روانگی گیٹ پر ایسے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کے پاس درست فارم نہیں ہوگاویب سائٹ پر مسافروںکیلئے فارم کی صورت میں مکمل معلومات کی فراہمی لازم ہوگی شیڈو ہوم سکریٹری نک تھامس سائمنڈس نے مسافروں کو متنبہ کیا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور قواعدو ضوابط کی سختی سے پاسداری کی جائے ورنہ انہیں خلاف ورزی کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔

Leave a Reply