یورپی ملک میں تارکین کے ساتھ خراب سلوک ہورہا ہے

یورپی ملک میں تارکین کے ساتھ خراب سلوک ہورہا ہے

یورپی ملک میں تارکین کے ساتھ خراب سلوک ہورہا ہے

برسلز: یورپی کمیٹی برائے انسداد تشدد(سی پی ٹی ) نے ایک یورپی ملک کو کیمپوں اور زیر حراست تارکین وطن کے ساتھ نامناسب رویہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ بادی النظر میں متعلقہ یورپی ملک یورپی اور عالمی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے، وہاں تارکین کے حقوق نظر انداز کئے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ادارے سی ٹی پی نے یورپی ملک مالٹا کے بارے میں اہم رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مالٹا کی حکومت کا کیمپوں میں مقیم اور زیر حراست تارکین وطن کے ساتھ سلوک غیرانسانی ہے، تارکین کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، ان کے رہائش کے حالات بہت خراب ہیں، اور وہاں بالخصوص کم عمر تارکین کے لئے حفاظت کا بھی مناسب بندوبست نہیں، انہیں غیر متعلقہ بالغ افراد کے ساتھ رکھا جاتا ہے، اسی طرح کرونا سے بچاؤ کے لئے بھی اقدامات ناکافی ہیں، تارکین وطن کو سیلوں میں گنجائش سے زیادہ رکھا جارہا ہے، وہاں صفائی کے مناسب انتظامات بھی نہیں کئے جاتے، انہیں مناسب اور صاف لباس کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اسی طرح تارکین کو ان کے کیسز کے بارے میں بھی باخبر نہیں رکھا جاتا، باہر کی دنیا کے ساتھ ان کا رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اور یہ سارے اقدامات انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے آرٹیکل تھری کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، سی پی ٹی نے یہ رپورٹ ستمبر میں اپنے مالٹا کے دورے کے حوالے سے جاری کی ہے، جس میں ادارہ نے مالٹا میں تارکین کے مختلف حراستی مراکز کے دورے کئے تھے۔ یورپی ادارے نے مالٹا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اور اپنا امیگریشن کا نظام بہتر بنائے، تارکین کے ساتھ باعزت اور مناسب سلوک کو یقینی بنایا جائے۔

Leave a Reply