میڈرڈ پہنچنے کے لئے تارکین وطن گندگی کے کنٹینرمیں جاچھپے

میڈرڈ پہنچنے کے لئے تارکین وطن گندگی کے کنٹینرمیں جاچھپے

میڈرڈ پہنچنے کے لئے تارکین وطن گندگی کے کنٹینرمیں جاچھپے

میڈرڈ: خؤشحال زندیگی کزارنے کیلئے یورپ پہنچنے کی کوشش میں تارکین وطن کیا کیا کرتے ہیں، اور کس کس طرح اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، اس کی ایک اور مثال سامنے آئی ہیں، تارکین وطن کے گروپ نے اپنے آپ کو ایسی جگہ چھپایا، جس کا تصور ہی محال سمجھا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مراکش سے ملحقہ اسپین کے جزیرے Melilla میں تارکین وطن داخل ہونے کے لئے باڑ اور کئی فٹ اونچی دیوار پار کرنے کے لئے جان پر کھیل جاتے ہیں، لیکن جزیرے میں داخل ہونے کے بعد بھی انہیں منزل نہیں مل پاتی، کیوں کہ اسپین کی مرکزی سرزمین وہاں سے بہت دور ہے، اور ہسپانوی حکام جزیرے میں داخل ہونے والوں میں سے اکثریت کو وہیں سے ڈیپورٹ کردیتے ہیں، تاہم اب 41 ایسے تارکین سامنے آئے ہیں، جنہوں نے اسپین کی مرکزی سرزمین پر پہنچنے کے لئے خود کو دوسری بار داؤ پر لگا دیا، ہسپانوی حکام جزیرہ Melilla میں جمع ہونے والا کچرہ ری سائیکل کرنے کے لئے کنٹینرز میں بھر کر اسپین کی مرکزی سرزمین پر بھیج دیتے ہیں، اور یہ تارکین وطن گندگی اور خطرناک مواد سے بھرے ان کنٹینرز میں ہی جاچھپے، تاکہ وہ کسی طرح اسپین کے مرکزی علاقے میں پہنچ سکیں۔

اتنا بڑا خطرہ مول لینے کے باوجود ان کی قسمت خراب نکلی، اور کچرے اور گندے مواد سے بھرے کنٹینرز اسپین کے مرکزی علاقے میں روانہ کرنے سے قبل ہی پولیس نے ان تارکین کو برآمد کرلیا۔

لیکن یہ اس لحاظ سے ان کے لئے اچھا رہا کہ ان کی جان بچ گئی، ورنہ جزیرے سے اسپین کی مرکزی سرزمین تک 7 گھنٹے کے بحری سفر میں ان میں سے اکثریت کی موت واقع ہوسکتی تھی، حکام کا کہنا ہے کہ زہریلے مواد سے بھرے ایک پلاسٹک بیگ میں بھی ایک تارک وطن نے خود کو چھپا لیا تھا، اور جب اسے کھولا گیا، تو وہ نیم مردہ ہوچکاتھا، پہلے تو اہلکاروں کو لگا کہ وہ مرچکا ہے، لیکن بعد میں اس کی سانسیں چلتی دیکھ کر فوری اسپتال پہنچایا گیا۔

ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ جزیرے کی بندرگاہ پر موجود کچرے کے کنٹینرز سے 41 تارکین وطن کو برآمد کیا گیا ہے، ان میں سے بہت سے ایسی بوریوں میں بند تھے، جن میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلیں بھی تھیں، اور وہ ان سے زخمی بھی ہوچکے تھے، برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اس سال اب تک جزیرے پر 1 ہزار 781 تارکین داخل ہوچکے ہیں۔

Leave a Reply