تارکین کیلئے پکڑا جانا خوش قسمتی ٹھہرا

تارکین کیلئے پکڑا جانا خوش قسمتی ٹھہرا

تارکین کیلئے پکڑا جانا خوش قسمتی ٹھہرا

سراجیوو: کہتے ہیں جان ہے تو جہاں ہے، اور سچ ہی کہتے ہیں کیوں کہ اگر زندگی ہی نہ رہے، تو پھر ہر چیز ختم ہوجاتی ہے، لیکن کچھ تارکین وطن اس محاورے کو ہر وقت غلط ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور یورپ پہنچنے کے لئے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں۔

تاہم ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کسی نے اپنے ساتھ بچوں کی جانیں بھی خطرے میں ڈال دی ہوں، لیکن ایسا معاملہ سلوینیا میں سامنے آیا ہے، جہاں تارکین وطن نے یورپ پہنچنے کے لئے اپنے ساتھ اپنے معصوم بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دیں، اور ان کی اس حرکت کی وجہ سے بچے موت کے دھانے پر پہنچ گئے، سلوینیا کے حکام کے مطابق انہوں نے بوسنیا سے سامان لانے والے ایک ٹرک سے 13 تارکین وطن کو برآمد کیا ہے، جو آکسیجن اور پانی کی کمی کی وجہ سے موت کے دھانے پر پہنچ چکے تھے، یہ لوگ  ٹرک میں ایسی جگہ چھپے ہوئے تھے، جہاں آکسیجن بھی ملنا مشکل تھی، افسوسناک بات یہ ہے کہ تارکین نے اپنے ساتھ  دو بچوں کو بھی چھپایا ہوا تھا، اور ان بچوں کی حالت غیر ہوچکی تھی، اگر تھوڑی دیر ہوجاتی، تو ان کی جان بھی جاسکتی تھی۔

ان تارکین کا تعلق عراق سے ہے، حکام کے مطابق یہ تارکین بوسنیا سے ٹرک میں چھپے تھے، اور کروشیا سے ہوتے ہوئے سلوینیا داخل ہوئے، جہاں بارڈر پر معمول کی چیکنگ کے دوران وہ پکڑے گئے، لیکن پکڑا جانا ان کی خوش قسمتی ثابت ہوا، ورنہ ان کی جانیں جاسکتی تھیں، کیوں کہ آکسیجن کی کمی اور پانی نہ ملنے سے ان کے جسم بے جان ہورہے تھے، حکام نے انہیں فوری طور پر طبی امداد دی، جبکہ زیادہ حالت خراب ہونے پر دو تارکین کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے بوسنیا کے ٹرک ڈرائیور اور اس کے ساتھ گاڑی میں موجود ایک اور شخص کو گرفتار کرلیا ہے، اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

Leave a Reply