New UK list

برطانیہ کی نئی لسٹ، ہزاروں اوورسیز افراد پاکستان میں پھنس گئے، کمیونٹی کو شدید پریشانی

برطانیہ کی نئی لسٹ، ہزاروں اوورسیز افراد پاکستان میں پھنس گئے، کمیونٹی کو شدید پریشانی

پاکستان کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے پر کمیونٹی میں شدید پریشانی۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں اورسیز کمیونٹی کے افرادپاکستان میں پھنس کر رہ گئے ۔برطانیہ نے فلپائن، کینیا اور بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کو بھی ریڈ لسٹ میں ڈال دیا ہے

جس کا اطلاق جمعہ 9اپریل صبح 4 بجے سے ہو گا ان ممالک سے آنے والوں کو 10 دن ہوٹل میں قرنطینہ میں رہنا ہوگا اس اقدام سے پاکستان جانے والے ہزاروں افراد کو واپسی میں مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا کیونکہ انہیں واپسی پر دس دن ہوٹل میں قرنطینہ کرنا پڑے گا

قرنطینہ کے اس پیکیج کی کم سے کم کاسٹ 1750 پونڈز فی فرد ہو گی جس کا اہتمام سفر سے پہلے کرنا ہو گا اگر سفر سے پہلے بندوبست نہ کیا اور آپ برطانیہ آ گئے تو اس پر آپ کو چار ہزار پونڈز جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور قرنطینہ پیکج کی فیس الگ سے ادا کرنا پڑے گی ۔

تا ہم جن افراد کو مالی مشکلات کا سامنا ہو گا وہ اس حوالے سے مدد کے لیے حکومت کو درخواست دے سکیں گے اور حکومت 12 ماہانہ اقساط پر قرضہ فراہم کرے گی پہلے تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے قرنطینہ کی کوئی فیس نہیں رکھی گئی تھی تاہم اب حکومت اس کو پانچ سال کے بچوں کے لیے بھی چھوٹ دینے پر غور کر رہی ہے

مالی مشکلات کے حوالے سے غلط انفارمیشن دینے والے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوں گے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے۔برطانیہ آنے والے مسافرہوٹل میں قرنطین کرنے کے لیے فی الحال ہیتھرو ، گیٹ ویک ، لندن سٹی ، برمنگھم اور فارن برو ائیرپورٹ پر ہی اتر سکیں گے مستقبل میں دوسرے شہروں کے ائرپورٹ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے اگر اگر کوئی مروجہ قرنطین ہوٹل میں کرنے کے لیے کسی دوسرے ائرپورٹ پر اتریں گے تو اس پر بھی آپ کو دس ہزار پونڈ جرمانہ اور مخصوص ہوٹل تک آمد و رفت کے اضافی اخراجات بھی وصول کیے جائیں گے

اورسیز پاکستان ویلفئیر اور بریڈفورڈ ویسٹ کی ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ نے کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ اس پریشان کن صورت حال میں کمیونٹی پاکستان جانے سے گریز کرے اس وقت پاکستان کورونا وائرس کی کی تیسری لہر سے نبرد آزما ھے برطانیہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے جانے کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے

اس صورتحال میں برطانوی حکومت کی واضح پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کرنا انتہائی غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ناز شاہ نے کہا کہ پاکستان میں موجود اورسیز کمیونٹی کے معاملات حل کرنے کےلیے کوششیں کی جا رہی ہیں

Leave a Reply