برطانیہ میں کرونا کا نشانہ بننے والوں میں پاکستانی سرفہرست، وجہ کیا نکلی؟

برطانیہ میں کرونا کا نشانہ بننے والوں میں پاکستانی سرفہرست، وجہ کیا نکلی؟

برطانیہ میں کرونا کا نشانہ بننے والوں میں پاکستانی سرفہرست، وجہ کیا نکلی؟

لندن: برطانیہ میں جاری کرونا بحران میں کون سی نسلی اکائی کے لوگ زیادہ متاثر ہورہے ہیں، اس حوالے سے تکلیف دہ سرکاری رپورٹ آگئی ہے، سفید فام برطانویوں کے مقابلے میں ایشیائی وبا کا زیادہ شکار ہورہے ہیں، اور کرونا کی دوسری لہر میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد نشانہ بننے والوں میں سرفہرست ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی ادارہ نیشنل اسٹیٹکس (او این ایس)، آکسفورڈ یونیورسٹی، لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن اور یونیورسٹی آف لیسٹر نے کرونا کی پہلی لہر اور اب جاری دوسری لہر میں متاثر ہونے والوں کی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوروں کے مقابلے میں سیاہ فام کرونا کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں، کرونا کی پہلی لہر میں  سیاہ فام افریقی نژاد لوگوں میں شرح اموات گوروں کے مقابلے میں  ساڑھے 4 فیصد زائد تھی، جبکہ کرونا کی دوسری لہر پاکستانی اور بنگلہ دیشی پس منظر رکھنے والوں پر زیادہ بھاری پڑرہی ہے۔

پاکستانی پس منظر رکھنے والے شہریوں میں کرونا سے مرنے کی شرح گوروں کے مقابلے میں 4.81 فیصد تک زائد ہے، جبکہ بنگلہ دیشی شہری گوروں کے مقابلے میں 4.11 فیصد تک زیادہ مرر ہے ہیں، ان کے مقابلے میں بھارتی پس منظر والے شہریوں میں گوروں کے مقابلے میں مرنے کی شرح صرف 1.80 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد شہریوں میں مسلسل زیادہ شرح اموات کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں    پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں میں کرونا سے زیادہ اموات کی ممکنہ وجوہات میں نسبتاً کم سہولتوں والے علاقے میں رہنا اور بڑے خاندانوں کا ساتھ قیام بتایا گیا ہے۔

برطانیہ میں کرونا کا نشانہ بننے والوں میں پاکستانی سرفہرست، وجہ کیا نکلی؟

اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کی بڑی تعداد  ٹیکسی اور دکانیں چلاتی ہے، اور یہ پیشے بھی انہیں دوسری نسلی اکائیوں کے مقابلے میں کرونا کا زیادہ شکار بننے کی وجہ ہوسکتے ہیں، رپورٹ میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کا پس منظر رکھنے والے خاندانوں کی صحت پر زیادہ توجہ  مرکوز کریں۔

دوسری جانب برطانیہ میں کورونا ویکسین لگوانے سے انکار اور ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کی کشمکش کا شکار افراد میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بریڈ فورڈ میں کورونا کیسز اور ویکسی نیشن کیلیےکام کرنے والے ڈاکٹرزکے مطابق دسمبر اور جنوری کے اعداد وشمار میں کورونا ویکسین لگوانے سے انکارکرنے والے80 یا اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ تعداد پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔دوسرے نمبر پر بنگلا دیشی افراد اور تیسرے نمبر پر دیگر ایشیائی ممالک کے شہری شامل ہیں۔

Leave a Reply