اٹلی کے شہریت قوانین میں نرمی، اسائلم کا بھی آسان طریقہ نکل آیا

اٹلی کے شہریت قوانین میں نرمی، اسائلم کا بھی آسان طریقہ نکل آیا

اٹلی کے شہریت قوانین میں نرمی، اسائلم کا بھی آسان طریقہ نکل آیا

اٹلی کی عدالت نے انسانی بنیادوں پر پناہ کے کیس میں کرونا سے جڑا اہم فیصلہ سنادیا ہے، جس سے ہزاروں تارکین وطن کے لئے سیاسی پناہ کے آسان حصول کا راستہ کھل گیا ہے، وہ پناہ گزین جن کی پہلے پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں، وہ بھی اس فیصلے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اطالوی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اٹلی میں پناہ دینے کے لئے کرونا کی وبا کو بھی وجہ تصور کیا جاسکتا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی تارک وطن کے ملک میں کرونا کی صورتحال خراب ہے، تو یہ بات اسے انسانی بنیادوں پر پناہ دینے کی وجہ بن سکتی ہے۔

اطالوی اخبار کے مطابق عدالت نے اگرچہ کرونا کو اٹلی میں پناہ کی وجوہات کے طور پر تسلیم کیا ہے، تاہم قرار دیا ہے کہ یہ بنیاد خود بخود تسلیم نہیں کرلی جائے گی، بلکہ ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔ جائزے میں درخواست گزار غیرملکی کے آبائی وطن میں کرونا کی صورتحال اور اس کے سماجی و معاشی اثرات شامل ہوں گے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایشیائی اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد تارکین کی درخواست پر دیا ہے، جن کی پناہ کی درخواستیں اس سے پہلے مسترد کی جاچکی تھیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ وبا سے لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر پناہ دی جاسکتی ہے، کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ ان تارکین کے آبائی ممالک میں کرونا سے نمٹنے کے لئے وینٹی لیٹرز، آئی سی یو اور دیگر طبی سہولتیں مناسب سطح پر دستیاب نہ ہوں۔

دوسری جانب اطالوی پارلیمنٹ نے تارکین وطن کیخلاف سابق وزیرداخلہ ماتیو سالوینی کا قانون ختم کرکے نیا قانون نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہےجس میں شہریت سمیت تارکین وطن کے لئے مختلف معاملات پر نرمی شامل ہے، اس موقع پر سینیٹ میں ہنگامہ آرائی اور لڑائی جھگڑا بھی ہوا۔ نئے قانون کے تحت کسی اطالوی شہری سے شادی یا ملک میں 10 برس تک قانونی قیام کے بعد جو تارکین وطن شہریت کی درخواست دیں گے، اس پر 24 ماہ یعنی دو برس کے اندر حکومت کو لازمی جواب دینا ہوگا، تاہم اس میں بہت ناگزیر صورت میں حکومت زیادہ سے زیادہ مزید 12 ماہ لے سکے گی، یعنی زیادہ سے زیادہ بھی 36 ماہ میں حکومت کو شہریت کی درخواستوں پر کارروائی مکمل اور جواب دینا ہوگا۔اس سے قبل کئی کئی سال تک سٹیزن شپ کیسز یونہی پڑے رہتے تھے اور ان کے لئے کوئی ٹائم فریم موجود نہیں ہے۔

نئے قانون کے تحت تارکین وطن انسانی حقوق کے کاغذات کو ورک پرمٹ میں بھی تبدیل کراسکیں گے، نئے قانون میں اگرچہ تارکین کے جہاز روکنے کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس رکھا گیا ہے، تاہم اگر ریسکیو کرنے والی این جی اوز اس بارے میں وزارت داخلہ کو بروقت آگاہ کریں گی، تو وزارت داخلہ ان کے کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔ تارکین وطن کو ریسکیو کرکے لانے کے عمل میں کسی خلاف ورزی کے مرتکب جہازوں پر جرمانہ بھی ڈیڑھ لاکھ یورو سے کم کرکے 10 ہزار سے 50 ہزار یورو کے درمیان کردیا گیا ہے، ایسے تارکین وطن جنہیں سیاسی، مذہبی، لسانی، یا صنفی وجوہات کی وجہ سے تشدد کا خطرہ ہوگا، وہ سیاسی پناہ کے لئے درخواست دے سکیں گے، اور انہیں ڈیپورٹ نہیں کیا جائیگا۔ ڈیپورٹ کرنے میں ترجیح ایسے تارکین کو دی جائے گی، جو سیکورٹی خطرہ ہوں گے یا سنگین جرائم میں ملوث ہوں گے، یا ایسے ممالک سے آئے ہوں گے جن کے ساتھ اٹلی کا ڈیپورٹیشن کا معاہدہ ہے۔ نئے قانون میں اطالوی وزیراعظم کو یہ اختیار بھی دے دیا گیا ہے کہ وہ ملک میں کام کیلئے قانونی تارکین کا کوٹہ مقرر کرسکیں گے۔

Leave a Reply