ورپی ملک نے تارکین کو گھنٹوں کے اندر ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا

یورپی ملک نے تارکین کو گھنٹوں کے اندر ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا

یورپی ملک نے تارکین کو گھنٹوں کے اندر ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا

برسلز: ایک یورپی ملک نے غیر قانونی تارکین وطن کو تیزی سے ملک سے ڈیپورٹ کرنے کی تیاری کرلی ہے، اور وہاں پہنچنے والوں کے سیاسی پناہ کے کیس مہینوں یا ہفتوں نہیں چند گھنٹوں میں نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں واپس بھیج دیا جائے گا.

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک نے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اب تک کا تیز ترین نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں سیاسی پناہ کے کیسوں کو گھنٹوں میں نمٹادیا جائے گا، جی ہاں ہم بات کررہے ہیں، آسٹریا کی، جہاں کے چانسلر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت موقف کی شہرت رکھتے ہیں، آسٹریا یورپی یونین کا واحد ملک سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ برس 2020 میں سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا، ورنہ دیگر یورپی ملکوں میں کرونا بحران کی وجہ سےتارکین اور سیاسی پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے، مجموعی طور پر یورپی یونین میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں 31 فیصد کمی ہوئی، آسٹریا کی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ برس سیاسی پناہ کے لئے 14 ہزار 200 درخواستیں موصول ہوئیں، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ تھیں، جس کی بڑی وجہ آسٹریا کا بلقان کی ریاستوں کے ساتھ بارڈر ہے۔

وزارت داخلہ کے سینئیر افسر وولف گینگ تھاچر کے حوالے سے خبررساں ادارے نے بتایا ہے کہ ان میں سے بہت سے تارکین وطن بلقان ریاستوں سے داخل ہونے کے بعد جرمنی جانے کے لئے آسٹریا سے گزرتے ہوئے پکڑے گئے، اور پھر انہیں آسٹریا میں ہی پناہ کی درخواست دینی پڑگئی۔


گھنٹوں میں فیصلہ

آسٹریا کے وزیرداخلہ کال نیمر نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک سیاسی پناہ کی درخواستوں پر تیز ترین فیصلے کے لئے نیا نظام نافذ کرنے جارہا ہے، اس نظام میں ایسے پناہ گزین جو معاشی وجوہات کی بنا پر آئے ہوں گے، ان کے کیس تیز رفتاری سے مسترد کردئیے جائیں گے، اور ملک سے نکال دیا جائےگا، اس اسکیم کا ٹیسٹ کیا جاچکا ہے، جس میں 72 گھنٹوں کے اندر 400 پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں، انہوں نے کہا کہ محفوظ کیٹگری میں شامل ممالک کے تارکین کا ہم مختصر ترین وقت میں فیصلہ کریں گے، معاشی تارکین کے لئے ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی نے بھی کرونا بحران کی وجہ سے روکا گیا ڈیپورٹیشن کا عمل بحال کردیا ہے، اور ملک میں موجود غیرقانونی تارکین وطن کو ڈیپورٹ کرنے کا عمل تیز کردیا ہے۔

Leave a Reply