ترکی میں ورک پرمٹ سمیت قانونی قیام کے راستے کون سے ہیں؟

ترکی میں ورک پرمٹ سمیت قانونی قیام کے راستے کون سے ہیں؟

انقرہ: ترکی میں قانونی طور پر قیام اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کے لئے کیا طریقہ کار ہے، کون سے شعبوں میں ترکی میں ورک پرمٹ آسانی سے مل سکتا ہے، اس بارے میں پاکستانیوں میں تجسس گزشتہ کچھ برسوں میں بڑھا ہے، کہ ترکی کا ویزہ کیسے حاصل کیا جائے۔

’’اردو نیوز‘‘ نے اس حوالے سے ترکی میں موجود بعض پاکستانیوں اور ترک میڈیا میں موجود اطلاعات کو جمع کرکے یہ رپورٹ تیار کی ہے، جس سے ترکی میں ملازمت کے ذریعہ سیٹ ہونے کی خواہش رکھنے والوں کو مدد مل سکتی ہے، واضح رہے کہ ترکی میں کارباوری افراد کے لئے الگ اسکیم ہے، اور سرمایہ کاری کرکے ترک شہریت بھی حاصل کی جاسکتی ہے، اگر کوئی شخص ترکی میں ڈھائی لاکھ ڈالر مالیت کی جائیداد خرید لے، تو اسے رہائشی پرمٹ اور پھر آگے جاکر شہریت دے دی جاتی ہے، اسی طرح ترک بینک میں 5 لاکھ ڈالر جمع کرکے بھی یہ سہولت حاصل کی جاسکتی ہے۔

ورک پرمٹ کا طریقہ

ترکی میں ورک پرمٹ وہاں کی وزارت لیبر اور سوشل سیکورٹی جاری کرتی ہے، تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس ترکی میں قائم کسی کمپنی کی طرف سے جاب آفر لیٹر موجود ہو، ورک پرمٹ کے لئے سارا پراسیس ورکر کو بلانے والی کمپنی کو ہی مکمل کرنا پڑتا ہے، ترک وزارت لیبر اور سوشل سیکیورٹی کی جانب سے ورک پرمٹ کی منظوری کے بعد ہی آپ کو ترکی کا ورک ویزا ملے گا، جس کے بعد آپ اپنے ملک میں ترک سفارتخانے سے ویزے کے لئے رجوع کریں گے۔

تاہم اگر آپ کے پاس ترکی میں 6 ماہ تک قیام کا ویزا موجود ہے، تو آپ ترکی میں رہ کر بھی ورک پرمٹ کے لئے اپلائی کرسکتے ہیں۔ ترکی میں ورک پرمٹ کی درخواست پر ایک ماہ کے اندر عموماً فیصلہ دے دیا جاتا ہے، ورک پرمٹ تمام شعبوں کے لئے جاری نہیں کئے جاتے، بلکہ مخصوص شعبے جہاں ترک حکومت سمجھتی ہو کہ ورکرز کی ضرورت ہے، صرف ان کے لئے پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں، عام طور پر نرسنگ ہومز، ڈینٹسٹ، ویٹرنری میڈیسن اورفارمیسی وغیرہ کے شعبوں میں ورک پرمٹ ملنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ورک پرمٹ کے علاوہ اگر آپ ترکی میں قانونی طور پر موجود ہوں، تو وہاں رہائشی پرمٹ کے لئے بھی رجوع کرسکتے ہیں، لیکن رہائشی پرمٹ پر آپ کا قانونی طور پر کام کی اجازت نہیں ہوتی، ایک سال کے رہائشی پرمٹ کے لئے عام طور پر 500 ڈالر تک کے اخراجات مختلف مشاورتی ادارے وصول کرکے کیس پراسیس کراتے ہیں۔

Leave a Reply