امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کھولنے کے امکانات میں اضافہ

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد کھولنے کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ تقریباً 9 ہزار کلومیٹر طویل سرحد، جس پر آرپار جانے کے لیے 117 سرکاری گزرگاہیں ہیں، گزشتہ سال مارچ میں کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد غیر ضروری سفر کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

دنیا کی اس سب سے طویل سرحد کی بندش کو ہرمہینے بڑھایا جاتا رہا ہے، جس کی موجودہ مدت پیر کے روز ختم ہو رہی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق وبا شروع ہونے سے پہلے ہر روز چار لاکھ کے لگ بھگ افراد اسے عبور کرتے تھے اور اس سرحد کے ذریعے روزانہ دو ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی تھی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اشارہ دیا ہے کہ سرحد کھولنے کا عمل بتدریج ہو گا اور اس کا انحصار کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں پر ہو گا۔

وینکور میں واقع سائمن فریسر یونیورسٹی میں گلوبل ہیلتھ شعبے کی پروفیسر کیلی لی کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ غیرضروری مقاصد کے لیے سرحد عبور کرنے والوں کو چار کیٹیگریز میں ڈالا جائے گا۔

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان 117 باضابطہ سرحدی گزرگاہیں ہیں، جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان 117 باضابطہ سرحدی گزرگاہیں ہیں، جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیٹیگریز غالباً کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی بنیاد پر ہوں گی۔ مثال کے طور پہلی کیٹیگری ان لوگوں کی ہو گی جنہوں نے ویکسین کی خوراکیں مکمل کر لی ہیں۔ دوسری کیٹیگری میں وہ لوگ آئیں گے جنہیں ویکسین کی ایک خوراک لگی ہو گی۔ ایک اور کیٹیگری ان لوگوں کی ہو گی جنہیں سرے سے ویکسین لگی ہی نہیں، جب کہ چوتھی کیٹیگری میں ان افراد کو رکھا جائے گا، جنہیں کرونا ہو چکا ہو اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہو گئے ہوں۔

لی کہتی ہیں کہ کسی مسافر کی کیٹیگری معلوم کرنے کا سہل طریقہ ویکسین پاسپورٹ ہو سکتا ہے، لیکن بعض لوگوں کو اس پر اعتراض ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ویکسین پاسپورٹ ہی سرحد کے آر پار سفر کی اجازت دینے کا ایک بہتر طریقہ ہے، کیونکہ اس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کس شخص کی آمد سے کوئی خطرہ ہے یا نہیں کیوںکہ کس مسافر کا داخلہ قدرے خطرناک ہو سکتا ہے اور کس سیاح کو اجازت دینے کا مطلب وائرس کے ممکنہ خطرے کے لیے تیار رہنا ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کی سرحدی گزرگاہ پر بندش کا سائن لگا ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کی سرحدی گزرگاہ پر بندش کا سائن لگا ہے۔

کینیڈا کی بزنس کونسل کے صدر گولڈی ہیدر کا کہنا ہے کہ جتنے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگے گی، اتنا ہی حکومت پرسفر کی اجازت دینے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے اندر تبدیلی آ رہی ہے اور لوگ خوف کی فضا سے نکل کر امید کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اور اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ویکسین کی خوراکیں مکمل کرنے کے فائدے کیا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں حکومت کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ اسے جلد ہی یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے سفر بحال کرنے کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہو گی۔

گولڈی ویکسین پاسپورٹ کی اصطلاح سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے بقول اس سے ایک اور طرح کا پیغام جائے گا کیونکہ کچھ لوگ ویکسین لگوانے یا نہ لگوانے کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ جس میں انہیں کسی کی مداخلت قبول نہیں۔ وہ ویکسین پاسپورٹ کو تعصب اور امتیازی برتاؤ کے طور پر لے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد کھولنے کے لیے حکومت چاہے جو بھی طریقہ اختیار کرے لیکن اس سے یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ویکسین لگوانے والوں اور نہ لگوانے والوں کے درمیان تفریق کی جا رہی ہے۔

گولڈی کہتے ہیں کہ ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سائنسی بھی ہو سکتی ہے، طبی بھی اور عقیدہ بھی۔ اس لیے کسی بھی شخص کے پاس معقول جواز موجود ہو تو اسے ویکسین نہ لگوانے کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

برٹش کولمبیا کی ٹورازم انڈسٹری ایسوسی ایشن کے سی ای او والٹ جوڈس کہتے ہیں کہ سرحد چاہے کسی بھی طریقے سے کھولی جائے، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مہینے بندش کی تجدید سے بہت سے کاروبار بند ہو چکے ہیں یا وہ امداد پر چل رہے ہیں۔ غیر یقینی صورت حال میں لوگ اپنے کاروباروں کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ بہت سے کاروباروں کا انحصار بین الاقوامی سیاحت پر ہے۔ طویل بندش سے سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

11 جون تک کینیڈا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 77 فی صد بالغوں کو ویکسین کی کم ازکم ایک خوراک لگ چکی تھی۔ جب کہ امریکہ میں ویکسین کی ساڑھے 31 کروڑ خوراکیں دی جا چکی ہیں اور 45 فی صد سے زیادہ آبادی کی ویکسین کا کورس مکمل ہو چکا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : صحت

Leave a Reply