امریکیوں کی اکثریت میں اومیکرون کے خلاف مدافعت پیدا ہو چکی ہے: رپورٹ



امریکہ میں موسم سرما کے دوران اومیکرون کی لہر نے جہاں لوگوں کو متاثر کیا وہیں اس نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ان کے دفاعی نظام کو بھی تقویت بخشی ہے ۔ اب اگر کوئی نئی لہر آئی تو اس کے خلاف لوگوں کا مدافعتی نظام بہت حد فعال رہ سکتا ہے ۔لاکھوں امریکیوں کا مدافعتی نظام اب اس وائرس کو پہچاننے لگا ہے ،اور اگر انھیں اومیکرون یا کسی اوربھی قسم کےوائرس کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

تقریباً نصف اہل امریکیوں نے بوسٹر شارٹ لگوالیے ہیں ۔ مجموعی طور پر تقریباً آٹھ کروڑ لوگوں میں اس وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ بہت سے لوگوں میں وائرس لگنے کی رپورٹ رجسٹر ہی نہیں ہوئی۔ ایک معتبر ماڈل نے ان عوامل اور دیگر کو استعمال کرتے ہوئے تخمینہ لگایا گیاہے کہ فی الحال 73 فیصد امریکیوں میں اومیکرون کے خلاف مؤثر مدافعت پیدا ہوچکی ہے جو مارچ کے وسط تک 80 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مدافعت رکھنے والے لوگ بیماری سے بہت حد تک محفوظ رہیں گے، اور وائرس کے پھیلاؤ کی سطح میں کمی آئے گی، نئی لہر کے امکانات کم ہوجائیں گے اور اسپتالوں کے آئی سی یو پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

سیاٹل میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ہیلتھ میٹرکس سائنسز کے پروفیسر علی موکداد نے کہا ہےکہ ” ہم بدل گئے ہیں۔ہم اس وائرس کا سامنا کرتے رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔”

موجودہ کرونا وائرس یا جو مستقبل میں آئے گا، اور یقنناً آئے گا ، وہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اب بھی روز ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد امریکیوں کو متاثر کررہا ہے اور ہر روز دو ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کررہا ہے جب کہ کروڑوں لوگ اب بھی اس کے خطرے کی زد میں ہیں۔

لیکن کرونا وائرس اب نیا نہیں رہا۔دو سال پہلے جو لوگ اس کے شکار ہوئے تھے، ان میں سے کسی کے بھی مدافعتی نظام نے اس طرح کے وائرس کا پہلے کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔ امریکہ کی تقریباً 33 کروڑ لوگوں پر مشتمل پوری آبادی مدافعتی لحاظ سے بالکل کوری تھی ، اس لیےوبائی مرض کے لیےحملے کا آسان ہدف تھی۔

پروفیسر علی موکداد نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر موسم گرما میں کوئی اور لہر آئی تو کیسز بڑھیں گے؛ لیکن اسپتالوں میں داخل ہونے اور اموات کی نوبت نہیں آئے گی ۔

مختلف سطحوں کی امداد اور احتیاط کے ساتھ بہت سے امریکی وبا سے پہلے والی طرز زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ بسماک نارتھ ڈکوٹا کی 41 سالہ سارہ ریکسن نے ایک سال کی چھٹی لینے کے بعدپھر سے گانا شروع کردیا ہے۔ اب جب کہ اومیکرون کا زور ٹوٹ رہا ہے، انھوں نے کہا کہ جب سے بحران شروع ہوا ہے وہ اب خود میں کہیں زیادہ اعتماد محسوس کرتی ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خاندان اور اس کے زیادہ تر رشتہ دار تمام ویکسین لگواچکے ہیں، انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی تھوڑا پریشان ہوتی ہیں کہ ان کےدرمیان کوئی نیا وئرینٹ ہوسکتا ہے۔ لہذا وہ اب بھی ماسک پہنتی ہیں۔

ماسک پہننے کی لازمی شرط میں نرمی کی وجہ سے کام کرنےوالے دفاتر کو لوٹ رہے ہیں ۔ ماہرین سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا یہ معمول کی جانب بحالی دیرپا ہو گی یا کوئی اور دھچکا لگے گا۔اسی کے حل کے لیے محقیقن وائرس، ویکسین اورجسموں پر اس کے ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اومیکرون کے خلاف بوسٹر تحفظ کتنی تیزی سے کم ہو رہا ہے ۔ وباسے تحفظ کب تک قائم رہتا ہے، کتنے فیصد ہلکے وبا ئی مرض کی اطلاع ہی رپورٹ نہیں ہوتی اور کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن ان میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔

محقیقن اس سلسلے میں برطانیہ، ڈنمارک، جنوبی افریقہ اور قطر کے صحت کے ڈیٹا سے موازنہ بھی کررہے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

جانز ہاپکنزیونیورسٹی بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں کا اندازہ ہے لہ اومیکرون کی اس لہر کے خاتمے تک امریکہ میں ہر چار میں سے تین افراد ضرور متاثر ہوں گے۔ ورجینیا میں بیماری کے ماڈل تیار کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ ویکسین لگانے کی وجہ سے ورجینیا کےتقریبا 45 فیصد مقامی باشندوں میں بیماری کے خلاف قوت مدافعت بلند ترین سطح پر ہے جب کہ 47 فیصد کی قوت مدافعت ان کے مقابلے میں کسی حد تک کم ہے اور سات فیصد میں نہایت کمزور ہیں کیونکہ انھوں نے ویکسین نہیں لگوائی اور نہ ہی کبھی انھیں متعددی مرض لاحق ہوا۔

پروفیسر علی موکداد نے کہاکہ 26 فیصد لوگ ایسے ہیں جنھیں اب بھی اومیکرون لاحق ہونے کا خدشہ ہے ۔ انھیں بہت احتیاط کرنی چاہئے۔

(اس رپورٹ کا مواد اے پی سے حاصل کیا گیا ہے)



Source link

کیٹاگری میں : صحت