وزیستان-میں-پولیو-وائرس.jpg

برطانیہ میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف، ایمرجنسی ڈکلیئر- بول نیوز

دنیا بھرمیں ہزاروں انسانوں کوعمربھرکے لیے معذورکرنے والے پولیووائرس کا دنیا سے تقریبا خاتمہ ہوچکا ہے، تاہم حال ہی میں نائجیریا، افغانستان اورپاکستان میں اس وائرس کے کچھ کیسزسامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس موذی مرض کے شکنجے سے نکلنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

تاہم، برطانوی دارالحکومت لندن میں سیوریج لائن میں ملنے والے پولیووائرس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ جس کے بعد صحتی حکام نے اسے قومی حادثہ قراردے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان، پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

اسکائے نیوز کے مطابق شہرکی مرکزی سیوریج لائن میں اس وائرس کو معمول کے انسپیکشن کے دوران شناخت کیا گیا۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی ( یو کے ایچ ایس اے ) کی کنسلٹینٹ ایپڈمیولوجسٹ ( ماہربرائے وبائی امراض) ڈاکٹر وینیزا سالیبا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا وائرس ویکیسن سے نکلا ہوا ہے، اس طرح کے وائرس شاذونادرپائے جائے ہیں اوران سے عوام کولاحق خطرات کی شرح بھی بہت کم ہوتی ہے‘

صحتی حکام کا اس بابت کہنا ہے کہ یہ وائرس بیکٹون سیویج ٹریٹمنٹ ورکس سے معمول کی جانچ کے لیے حاصل کیے گئے نمونوں میں پائے گئے ہیں اورہمیں اس کے انسانی آبادی میں پھیلنے کے خطرات لاحق ہیں۔

رواں سال فروری سے مئی کے دوران لیے گئے ان نمونوں میں پولیوکے متعدد وائرس پائے گئے ہیں۔ سامنے آنے والے وائرس کی درجہ بندی ’ویکسین ڈیرائیوڈ پولیو وائرس ٹائپ 2( VDPV2 ) کے طورپرکی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا تعلق شمال مشرقی لندن کے انفرادی لوگوں سے ہوسکتا ہے، غالبا یہ خاندان میں شامل ہونے والے نئے ارکان ہیں جو کہ اس ٹائپ 2 وائرس کواپنے فضلے کے ذریعے سیوریج لائن میں بہا رہے ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق کسی ایسے فرد سے ہوجس نے نئی نئی پولیو ویکسین پاکستان ، نائجیریا اور افغانستان سے کرائی ہو جہاں ابھی تک اس بیماری کا خاتمہ نہیں کی جاسکا ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمیونٹی میں اس کی منتقلی کی وسعت دیکھنے کے لیے ایک ہنگامی انویسٹی گیش کا آغاز کردیا گیا ہے جواس وائرس کے ماخذ کوتلاش کرے گی۔

وائرس کے ممکنہ پھیلاؤکے حوالے سے ڈاکٹروینیزا کا کہنا ہے کہ ’ ویکسین ڈیرائیوڈ پولیووائرس میں پھیلاؤ کی وسعت بہت زیادہ ہوتی ہے خصوصا ایسی کمیونٹیزمیں جہاں ویکسی نیشن کی شرح کم ہو۔

بہت ہی کم کیسزمیں یہ وائرس ایسے افراد کو مفلوج کرسکتا ہے جنہوں نے مکمل طورپرپولیو ویکسی نیشن نہیں کروائی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آگر آپ نے یاآپ کے بچوں نے باقاعدہ پولیو ویکسی نیشن نہیں کروائی ہے توپھرفوری طورپراپنے ڈاکٹرسے رجوع کریں۔

واضح رہے کہ عالمی ادارے برائے صحت نے رواں ماہ کے آغازمیں پاکستان کوپولیوسے متاثرہ ملک قراردیے جانے کا خدشہ ظاہرکیا تھا۔

ڈبیلوایچ اورعالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے گلوبل پروگرام ڈائریکٹرزپرمشتمل وفد نےدورہ پاکستان میں پولیوکے بڑھتے ہوئے کیسزپراظہارتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے جانے کی وہ سے پاکستان اورافغانستان میں کیسزکی شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کئی برس سے پاکستان ، نائجیریا اورافغانستان کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کو پولیوسے پاک قرار دے دیا گیا ہے۔



Source link