عمر رسیدہ افراد کے لیے ویکسین کی چوتھی خوراک؟



توقع کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے دوا ساز کمپنی فائزرعمررسیدہ افراد کے لیے ویکسین کے اضافی ڈوز کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے درخواست پیش کردے گی۔

ابتدا میں کرونا کے انسداد کے لیے فائزر ویکسین کی دو خوراکیں تجویز کی گئی تھیں، بعد میں تیسرا بوسٹر شامل کر دیا گیا اور اب یہ اس سلسلے کی چوتھی خوراک فی الحال 65 سے اوپر کی عمر کے افراد کے لیے ہوگا، کیوںکہ عمر رسیدہ افراد پر اس مرض کا حملہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔

خوراک اور ادویات کا ادارہ(ایف ڈی اے) اور امراض کے کنٹرول اور انسداد کا ادارہ (سی ڈی سی) اس کی منظوری دینے کے مجاز ہیں۔ جس شخص نے فائزر کی اس متوقع درخواست کے بارے میں بتایا ہے، اس نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی ہے ، کیونکہ اسے یہ خبر فراہم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

فائزر کی ترجمان خاتون جیریکا پٹس نے اس بارے میں بتایا تھا کہ ” ہم تمام مواد جمع کرکے اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں صحت کے حکام اور ریگولیٹرز سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاکہ کوویڈ 19 ویکسین کی حکمت عملی کو وائرس کی بدلتی ہوئی اقسام کے مطابق ترتیب دیا جائے”۔

اتوار کو نیوز چینل سی بی ایس کے پروگرام “فیس دی نیشن” میں فائزر کے انتظامی سربراہ البرٹ بورلا نے کہا تھا کہ ” اس وقت جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اس کی روشنی میں چوتھا بوسٹر ضروری ہے۔ تیسری خوراک سے خاصا تحفظ ملا ہے، مگر اس کی تاثیر زیادہ عرصے باقی نہیں رہ سکے گی۔ ہم یہ ڈیٹا ایف ڈی اے کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ فائزر سے باہر کے ماہرین کی کیا رائے ہے”۔

کووڈ۔19 کے کیسیز میں کافی کمی آچکی ہےاوراب ماہرین اور صحت کے حکام یہ دیکھ رہے ہیں کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے ویکسین لگانے کا اصل مقصد یہ ہے اس بیماری کی شدت کا انسداد کیا جاسکے۔ اومیکرون ویرینٹ کے سلسلے میں بوسٹر کی افادیت خاصی رہی ہے۔

امریکہ میں اب تک ویکسین کی چوتھی ڈوز صرف ان افراد کے لیے تجویز کی گئی ہے جن کا مدافعتی نظام شدید طور پرکمزور ہے، جب کہ اسرائیل نے 60سال سے اوپرعمر والوں اور ہیلتھ کئیر ورکرز کے لیے چوتھا ڈوز تجویز کر دیا ہے۔ تاہم ابھی تک دنیا بھر کے طبی ماہرین چوتھے ڈوز کے بارے کسی متفقہ اورحتمی نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں۔ اس بارے میں وہ دستیاب مواد کا جائزہ لے رہے تاکہ اضافی ڈوز کی افادیت کا تعین کیا جا سکے۔

(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا)



Source link

کیٹاگری میں : صحت