10060000-0aff-0242-2f64-08da5425a870_w1200_r1.jpg

وہ غذائیں جن کا استعمال کولیسٹرول کو رکھے انڈر کنٹرول



صحت مند زندگی گزارنے میں طرزِ زندگی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔انسان پورا دن کیا کھاتا پیتا ہے اور کس نوعیت کا کام کرتا ہے؟ یہ اس کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

طرزِ زندگی میں متوازن خوراک صحت مند رہنے کے لیے ایک اہم جُز ہے۔ خوراک میں کسی بھی چیز کی کمی یا زیادتی آپ کو مختلف امراض میں مبتلا کر سکتی ہے۔

ان بیماریوں میں ایک امراضِ قلب بھی ہے جو ایک جان لیوا بیماری ہے۔امریکہ کے صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کے مطابق تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر بلڈ اور ہائی بلڈ کولیسٹرول دل کی بیماری میں مبتلا کرنے کی اہم وجوہات ہیں۔

مگر یہ کولیسٹرول ہوتا کیا ہے اور اس کی خون میں مقدار کیسے بڑھ جاتی ہے؟

کولیسٹرول ایک کیمیکل کمپاؤنڈ ہے جو انسانی جسم کے تمام خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ انسانی جسم کو ہارمونز، وٹامن ڈی اور ایسے مادے بنانے کے لیے کچھ کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرسکے۔

امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی سائٹ ‘میڈ لائن پلس’ کے مطابق انسانی جسم کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے لیے کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے جسم میں دو طرح کا کولیسٹرول پایا جاتا ہے ایک ‘ایچ ڈی ایل’ جسے عام الفاظ میں ‘اچھا کولیسٹرول’ کہا جاتا ہے جب کہ دوسرا ‘ایل ڈی ایل’ یعنی بُرا کولیسٹرول۔

ایچ ڈی ایل جسم کے مختلف حصوں کے کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتا ہے اور جگر اسے جسم سے ختم کرنے کا کام کرتا ہے۔ جب کہ ایل ڈی ایل شریانوں میں جم کر اسے تنگ اور بلاک کرتا ہے۔

کولیسٹرول انڈے، گوشت اور پنیر جیسی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ اگر جسم میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوجائے تو یہ شریانوں میں چپک جاتا ہے جس سے شریانیں تنگ اور بند بھی ہو سکتی ہیں۔

‘میڈ لائن پلس’ کے مطابق کولیسٹرول بڑھنے کی سب سے عام وجہ غیر صحت مند طرزِ زندگی ہے۔ اگر کوئی شخص گوشت، چاکلیٹ، بیکری اور تلی ہوئی اشیا کا استعمال زیادہ کرے تو اس سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سستی و کاہلی اور تمباکو نوشی جیسی عادات بھی کولیسٹرول بڑھنے کا باعث بنتی ہیں۔

چلیں اب ان غذاؤں کے بارے میں جانتے ہیں جن کا استعمال کر کے جسم میں موجود ‘ایل ڈی ایل’ یعنی برے کولیسٹرول کی مقدار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

‘ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ’ کے مطابق اگر غذا میں قدرتی اناج یعنی گندم، جو اور مکئی وغیرہ شامل کر لیے جائیں تو اس سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار معتدل رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ پھلیاں فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں جو جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو کم کرتی ہیں۔

خوراک میں خشک میوہ جات شامل کرنا دل کی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دن میں 56 گرام خشک میوہ کھانے سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو خاصا کم کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح رس دار پھل یعنی سیب، اسٹرابیری اور بیریز کا استعمال بھی کولیسٹرول کی مقدار کو معتدل رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : صحت