کرونا دور افتادہ ممالک میں بھی پہنچ گیا



کرونا کی وبا جب د نیا میں پھیلنا شروع ہوئی تھی تو اس وقت بحرالکاہل کے دور افتادہ جزیرے نما کریباتی نے وائرس کو اپنے ہاں پہنچنے سے روکنے کےلیے اپنی سرحدیں بند کردیں جوتقریباً دو سال بند رہیں۔ کریباتی نے آخر کار چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کو، جنھیں عام طور پر مورمن چرچ کہا جاتا ہے، جزیرے کے ان 54باشندوں کو وطن واپس لانے کے لیے طیارہ چارٹر کرنے کی اجازت دے دی جو اپنے عقیدے کی تبلیغ کےلیے دو سال پہلے بیرون ملک چلے گئے تھے۔

حکام نے واپس آنے والے ہر مسافر کا قریبی جزیرہ فیجی میں کم از کم تین بار ٹیسٹ لیا ، ان کے لیے یہ بھی لازمی تھا کہ وہ ویکسین لگاچکے ہوں۔ اور جب وہ گھر واپس پہنچیں تو انھیں اضافی جانچ کے ساتھ قرنطینہ میں رکھا گیاہو۔ اس کے باوجود ان میں سے آدھے سے زیادہ مسافروں کے کرونا ٹیسٹ مثبت نکلے ، جو اب دیگرلوگوں میں پھیل گیا ہے اور حکومت ملک کو آفت زدہ قراردینے کی تیاری کررہی ہے۔

ابتدائی طور پر 36مسافروں میں کرونا کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے تھے جواب پھیل کر جمعہ تک 181تک پہنچ گئے ہیں۔ کریباتی اور بحرالکاہل کی کئی دوسری چھوٹی قومیں دنیا کے وہ آخری مقامات تھے جو دور دراز ہونے اور سخت سرحدی پابندی کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ سے محفوظ رہے تھے لیکن ان کی یہ دفاعی حیثیت انتہائی تیزی سےپھیلنے والے اومیکرون کے مقابلے میں موثر ثابت نہیں ہوسکی ہے۔

نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ میں ویکسین کی ماہر ہیلن پیٹرسس ہیرس کہتی ہیں کہ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ ناگزیر ہے ، اور یہ دنیا کے ہر کونے تک پہنچے گا ۔ یہ تیاری کے لیے مناسب وقت اور ہر ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانے کا معاملہ ہے۔

سائنس کے موضوع پر جریدے ” آور ورلڈ ان ڈیٹا “کے مطابق کریباتی کی ایک لاکھ تیرہ ہزار کی آبادی کے صرف 33فیصد لوگ ہی تمام ویکسین لگوا سکے ہیں جب کہ 59فیصد نے کم سے کم ایک ڈوز لگوائی ہے۔ اور بحرالکاہل کئی دیگر ممالک کی طرح کریباتی میں صحت کی صرف بنیادی خدمات کی سہولت دستیاب ہے۔

نیوزی لینڈ میں بحرالکاہل کے جزیروں کے مقامی ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کے سربراہ ڈاکٹر اپی ٹیلی موئٹوگا نے کہا ہے کہ پورے کریباتی میں آئی سی یو کے صرف دو بستر ہیں ، ماضی میں وہ اپنے شدیدبیماروں کو علاج کے لیے فیجی یا نیوزی لینڈ بھجتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کریباتی میں صحت کے نظام کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے جب انھوں نے وبا کے بارے میں سنا تو ان کا پہلا ردعمل تھا” او ہ میرے خدا۔”

کریباتی نے اب متعدد قرنطینہ سائٹس کھول دی ہیں ، کرفیو کا اعلان اور لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے ۔ کریباتی کے صدر تنیتی ماماو نے سماجی میڈیا کی سائٹ پرکہا ہےکہ حکومت صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ فوری ویکسین لگوائیں۔

کریباتی سمیت بحرالکاہل کے کئی ممالک میں امریکی ریاست یوٹا کے چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیڑ ڈیز سینٹس کے مضبوط مراکز موجود ہیں ، یہ جزیرے کا تیسرا سب سے بڑا عیسائی فرقہ ہے۔ چرچ میں تقریبا 53 ہزار مشنری ہیں جوپوری دنیا میں لوگوں کو تبدیل کرنے کےلیے کل وقتی تبلیغ میں لگے ہیں۔ کرونا کی وبا ان کے مشنری کاموں کےلیے ایک چیلنج بن کر سامنےآئی ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : صحت