کرونا وبا کے دوران کیلی فورنیا کے اسپتال میں نرسوں پر کیا گزری؟

امریکہ میں سال 2020 کے اوائل میں جب کرونا وائرس کی عالمی وباء کی شدت زور پکڑنے لگی تو ریاست کیلیفورنیا کے شہر مشن وی ایہو کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کا ایک علیحدہ یونٹ قائم کیا گیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے فوٹوجرنلسٹ جے سی ہانگ نے اس وارڈ میں ایک سال سے زائد کام کرنے والی نرسوں کی نئی تکنیک سے تصاویر کھینچیں اور ان کے تجربات رقم کئے ہیں۔

یہ تکنیک ملٹیپل ایکسپوژر کہلاتی ہے جس میں نرسوں کی انفرادی طور پر تصاویر لی گئی ہیں اور پھر وارڈ میں جس جگہ وہ کھڑی تھیں، وہاں کی تصاویر ان کے بغیر لے کر ان دونوں کو ایسے جوڑا گیا ہے کہ دونوں تصاویر کا عکس ایک دوسرے پر نظر آتا ہے۔

کچھ نرسوں کی تصاویر اور ان کے تجربات درج ذیل ہیں۔

انتھونی ولکنسن

انتھونی ولکنسن

34 برس کے اینتھونی ولکنسن نے اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں وہ 30 گھنٹے کبھی نہیں بھولیں گے جب ان کے یونٹ میں 3 مریض ہلاک ہو گئے۔

پہلی مریض ایک خاتون تھیں جو کئی ہفتوں سے وینٹی لیٹر پر تھیں۔ ایک دن ان کا آکسیجن لیول اتنا گر گیا کہ ایمرجنسی ٹیم نے انہیں سی پی آر دینا شروع کر دیا۔ سی پی آر اس طبی تکنیک کو کہتے ہیں جس میں مریض کے دل کی دھڑکن کو بحال کرنے کے لیے اس کے سینے پر ہاتھوں کی مدد سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

انتھونی کے مطابق سی پی آر کے دوران مریضہ کا ایک پھیپھڑا پھٹ گیا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے ایک ٹیوب کے ذریعے پھیپھڑے میں موجود مواد کو نکالنا شروع کیا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد ان کا دوسرا پھیپھڑا بھی پھٹ گیا۔ بقول انتھونی اس کے بعد مریضہ کا بچانا ناممکن ہو چکا تھا۔

اسی دن ایک اور مریض کے خاندان نے انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کئی ہفتوں سے ادویات اور وینٹی لیٹر کے سہارے زندہ تھے۔

بقول انتھونی، اس طرح کسی مریض کو زندہ رکھنے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے مگر اس عمل کے دوران ان کا جسم کسی مردہ انسان کی طرح خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

انتھونی کے بقول جب وہ اس دوسرے مریض کی لاش کو بیگ میں ڈال رہے تھے تو اسی وقت ایک اور مریض کی آنتیں پھٹ گئیں۔ وہ مریض ایک پنجرہ نما روٹوپرون بیٹ میں موجود تھا جس کا ڈھانچہ سیلینڈر کی طرح ہوتا ہے اور خون کی گردش کو بڑھانے کے لیے مسلسل گھومتا رہتا ہے۔ انتھونی نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پر اس پنجرے کو کھولا اور ان کے سینے پر دباؤ ڈالنا شروع کیا مگر ان کے پھیپھڑے وینٹی لیٹر کی وجہ سے پھولے ہوئے تھے۔ کچھ گھنٹے بعد وہ بھی ہلاک ہو گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی یو کی ٹیم اور ان کے ایک رکن کی اہلیہ کی وجہ سے، جو خود نرس ہیں، یہ وقت گزار سکے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ یادیں ان کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جتنا خون، اور جتنی طبی اشیا انہوں نے اس دوران استعمال کیں اس سے کتنے لوگوں کی جانیں بچیں۔

کرسٹینا اینڈریسن

کرسٹینا اینڈریسن

کرسٹینا اینڈریسن کا کہنا ہے کہ انتہائی مشکل دنوں میں وہ اور ان کی ساتھی نرسیں مل کر روتی اور چلاتی تھیں۔ ان کے بقول ایسا اس لیے تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے گھروں میں موجود ان کے عزیز نہیں جان سکتے کہ وہ کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود انہیں اسپتال کی ملازمت چھوڑنے کا خیال نہیں آیا۔ کام کے دباؤ نے ان کے پیاروں کو بھی متاثر کیا اور ان کا 12 برس کا بیٹا ان سے روزانہ پوچھتا کہ امی آج آپ نے کتنے لوگوں کی جان بچائی؟ یا آج کتنے لوگ ہلاک ہو گئے؟

کرسٹینا کا کہنا ہے کہ لوگ مرتے بھی تھے، اور لوگ بچ بھی جاتے تھے، مگر اکثر دنوں میں لوگ زندگی اور موت کی لڑائی میں پھنسے ہوتے تھے۔

ڈیبی ووٹرز

ڈیبی ووٹرز

ڈیبی ووٹرز پچھلے 15 برس سے آئی سی یو میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اے پی کو اپنے تجربات کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک مریض کا ذکر کیا جو حال ہی میں ریٹائر ہوا تھا اور اس کے اپنی اہلیہ کے ساتھ مستقبل کے بڑے بڑے منصوبے تھے۔ انہوں نے ریاست سے باہر ایک گھر خریدنے کے لیے آفر بھی دے رکھی تھی۔ وہ دنیا بھر میں گھومنا چاہتے تھے۔

ڈیبی نے بتایا کہ اس مریض کی ہر روز طبیعت بگڑنے لگی اور انہیں وینٹی لیٹر پر ڈالنا پڑا۔ کچھ دن بعد وہ وفات پاگئے۔

ڈیبی کے بقول ’’نئے مستقبل کی شروعات کرنے کی بجائے ہم ان کی بیوی سے انہیں فیس ٹائم پر بات کروا رہے تھے، تاکہ وہ انہیں خدا حافظ کہنے کے ساتھ ساتھ زندگی بھر کی بہترین یادوں کے لیے شکریہ کہہ سکیں۔‘‘

ڈیبی نے بتایا کہ وینٹی لیٹر کا سن کر بہت سے مریض ڈر جاتے۔ کیونکہ ایسی بہت سی کہانیاں تھیں کہ مریض وینٹی لیٹر پر گئے اور پھر دوبارہ ہوش میں کبھی نہ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ ایک مریض کو جب وینٹی لیٹر کا بتایا تو اس نے اپنی سانس لینے میں شدید دشواری کی وجہ سے گھٹی گھٹی آواز میں مجھے کہا کہ وہ مرنا نہیں چاہتے ہیں۔ ڈیبی نے انہیں کہا کہ وہ اس وقت بہترین ہاتھوں میں ہیں اور وہ ان کے لیے اپنے خاندان کے فرد کی طرح لڑیں گے۔



Source link

کیٹاگری میں : صحت

Leave a Reply