سعودی عرب میں کفالت کانظام ختم

سعودی عرب میں کفالت کانظام ختم،آج سے نئے قانون کااطلاق

سعودی عرب میں کفالت کانظام ختم،آج سے نئے قانون کااطلاق

سعودی عرب میں ملازمت کا نیا قانون اتوار س(آج)ے نافذ العمل ہوگا جس کے بعدکفالت کا نظام ختم ہوجائے گا اور ملازمت و کاروبار کیلئے آئے ہوئے لاکھوں غیر ملکی براہ راست مستفید ہوں گے۔اردو نیوز پر جاری رپورٹ میں سبق ویب سائٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ سعودی عرب میں کفالت کا نیا نظام اتوار (14 مارچ) سے لاگو ہوگا، جس کے تحت کفالت کا نظام ختم ہوجائے گا، اس وقت کم و بیش 84 لاکھ 40 ہزار غیرملکی کام کررہے ہیں جو براہ راست نئے قانون سے مستفید ہونگے۔
نئے قانون کے نفاذ کے بعد سعودی عرب میں کام کرنیوالے غیر ملکیوں کو مختلف سہولتیں فراہم کی جائیں گی جن میں ملازمت کی تبدیلی کا اختیار بھی شامل ہے۔نئے قانون میں غیر ملکی کارکن کو ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں ملازمت کی اجازت کیلئے شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ غیر ملکی کارکن پہلے آجر کے یہاں سے دوسرے آجر کے ہاں ملازمت کا مجاز ہے بشرطیکہ نیا آجر ملازمت دینے کیلئے تیار ہو۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت غیر ملکی کارکن موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر ملازمت کا مصدقہ معاہدہ ختم ہونے پر دوسرے آجر کے پاس ملازمت کا حق دار ہے۔

ملازمت کا نیا نظام سہ نکاتی ہے اور اس کے چار بڑے اہداف ہیں، اس میں آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ، لیبر مارکیٹ میں لچکدار ماحول پیدا کرنا، لیبر مارکیٹ کو مزید پُرکشش بنانا اور آجیر و اجیر کے تعلقات کے سلسلے میں ملازمت کے معاہدے کی اہمیت کو منوانا اور اسے مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔سعودی وزارت افرادی قوت لیبر مارکیٹ میں ہونیوالی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر نئے قوانین و ضوابط تیار کررہی ہے، محنتانوں کا تحفظ، ملازمت کے معاہدوں کی توثیق اور پیشہ وارانہ صحت وسلامتی کا فروغ اسی کا حصہ ہے، یہ لیبر مارکیٹ کو جدید بنانے کی طرف قدم ہے

Leave a Reply