ابراہیم رئیسی نے ایران کے نئے صدر کا حلف اٹھا لیا

ایران کے کٹر قدامت پسند سابقہ جج ابراہیم رئیسی نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

جون کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی تھی، جب کہ مقابلے میں حصہ لینے کے خواہش مند متعدد اہم امیدواروں کو پہلے ہی نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

رئیسی نے اپنا حلف اٹھاتے ہوئے کہا، “میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری مذہب اور انتظامیہ اور آئین کی حفاظت کا حلف اٹھاتا ہوں”۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے والوں میں افغانستان کے صدر اشرف غنی، عراق کے صدر برھم صالح اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انرکی مورا بھی شامل تھے۔

حماس کے لیڈر اسماعیل ھانیہ اور حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

رئیسی نے ایک ایسے موقع پر ایران کی صدارت سنبھالی ہے جب ملک کو بڑے پیمانے پر اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے جن میں امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں بھی شامل ہیں۔

رئیسی حلف اٹھانے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2021

رئیسی حلف اٹھانے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2021

رئیسی نے منگل کے روز اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ “امریکہ کی جانب سے لگائی گئی ظالمانہ پابندیاں ختم کرانے کی کوشش کریں گے” اور یہ کہ وہ “ملک کی معیشت کو غیرملکیوں کی خواہش کے تابع”بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کے بین الاقوامی معاہدے سے نکلنے کے بعد اس پر 2018 کے شروع میں اس وقت پابندیاں لگا دیں تھیں۔

دونوں فریقوں کے درمیان نئے سمجھوتے کے ذریعے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی جانب لوٹنے سے متعلق بالواسطہ بات چیت ہو چکی ہے۔

ایران کو کرونا وائرس کی وبا کے شدید دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں اس ہفتے ریکارڈ تعداد میں نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

رئیسی کو 2019 میں ایران کے عدالتی نظام کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

اسی سال نومبر میں امریکہ نے 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کی سزاؤں میں ملوث ہونے کی بنا پر ان پر پابندیاں لگا دی تھیں۔



Source link

Leave a Reply