اربیل پرایران کا بلیسٹک میزائل حملہ، متعدد عراقی سیاسی رہنماؤں کی تنقید



عراق کے شمالی شہر اربیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے پہ عراق کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما تنقید کر رہے ہیں۔ اس حملے میں کچھ رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا مگر کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا ہے، جس میں ایک بیان کے مطابق کرد اکثریتی شہر پر 12 بیلسٹک میزائل اسرائیل کے ایک مبینہ سازشی اسٹریٹیجک مرکز پر فائر کیے گئے۔

مقتدیٰ الصدر نے، جو ایک بااثر شیعہ مذہبی رہنما ہیں اور جن کی سیاسی جماعت نے عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریتی نشستیں حاصل کی ہیں، ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور ایرانی سفیر سے احتجاج کرے اور اس بات کی ضمانتیں طلب کرے کہ آئندہ اس قسم کا حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ایک پرانے کرد سیاستدان محمود عثمان، جو عراقی پارلیمان کے رکن بھی رہ چکے ہیں، وہ اس حملے کو حکومت بنانے کے لیے الصدر اور اربیل کی حکمران کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور سنی سیاستدانوں کے کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

محمود عثمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کِہ ایران نےبلاڈھکے چھپے یہ کہا ہے کہ حملے کی پشت پر وہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ انہوں نے خطے میں اسرائیلی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ الصدر اور دوسروں کے ساتھ کردستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے اتحاد سے خوش نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں ہونے والے عراق کے پارلیمانی انتخاب کو اب چھ مہینے ہو گئے ہیں، لیکن وہاں ابھی تک کوئی نئی حکومت نہیں بن سکی۔یہ واضح نہیں ہے کِہ کیاحملے کا حکومت سازی کے عمل پر کوئی اثر پڑے گا۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے میزائل حملے کے بعد کی تصاویر شائع کی ہیں جس سے شہر کی کم از کم ایک تین منزلہ عمارت اور ایک مقامی ٹی وی چینل کے اسٹوڈیو کو نقصان پہنچا ہے۔

اربیل کے گورنرعمید خوشناؤ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ حملہ جسے مقتول ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے یوم پیدائش کے موقع پر کیا گیا کا ہدف شہر میں قائم امریکی قونصل خانہ تھا۔ سلیمانی کو دو سال قبل امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم ایران کو اس کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں حکومت عراق کی حمایت کریں گے اور ہم ایران کی جانب سے اس قسم کی دھمکیوں اور خطرات سے نمٹنے میں پورے مشرق وسطی میں اپنے پارٹنرز کی بھی حمایت کریں گے۔ امریکہ عراق کے مکمل اقتدار اعلی، آزادی اور سرحدی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے بھی حملے کو ایک ایسی مجرمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جس کے لیے ایران کو جوابدہ ٹھہر ایا جانا چاہیے۔

سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کِہ امریکہ شہری اہداف پر مجرمانہ حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

“ایرانی حکومت کے عناصر نے حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا ہے اور اس کے لیے عراق کے اقتدار اعلیٰ کی دیدہ دلیرانہ خلاف ورزی اور بے گناہ شہریوں کی املاک پر دہشت گردانہ حملوں کے لیے جواب دہ ٹھہرائے جانے کی توجیح پیش کی ہے۔”

عراق کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد ا لحلبوسی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اسے لوگوں کی سلامتی پر حملہ قرار دیا۔

عراقی کردستان کے صدر نیشروان برزانی نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے حملوں کے خلاف بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ عراق کی وفاقی حکومت اور بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کِہ وہ ایسی جارحیت کو بند کرائیں اور ملک کے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ اور امن کے لیے اقدامات کریں۔

(یہ رپورٹ وائس آف امریکہ کی کردش سروس کے دلشاد انور کی رپورٹ سے ماخوذ ہے)



Source link