ایران نے  دوسرا فوجی سیٹلائٹ مدار میں پہنچا دیا



ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایک دوسرا فوجی سیٹلائٹ ، “نور ٹو” کامیابی سے مدار میں بھیجا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویانا میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والی بات چیت ایک نازک اور حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

“نور ٹو ” زمین سے پانچ سو کلو میٹر کی بلندی پر گردش کررہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے اپریل 2020میں لانچ کیے جانے والے پہلے فوجی سیٹلائٹ نور کو، جسے فارسی زبان میں روشنی کہا جاتا ہے، سطح زمین سے چار سو پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر مدار میں پہنچایا گیا تھا۔

خلا میں دوسرا سیٹلائٹ کامیابی سے پہنچانا ایرانی فوج کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، جس سے اس ملک کے جوہری اور میزائل پروگرام کے بارے میں عالمی خدشات بڑھیں گے۔

نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرواسپیس فورس کے خلائی کمانڈر علی جعفر آبادی نے منگل کو بتایا کہ ایران آنے والے برسوں میں کئی فوجی سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ” ہم آنےوالے برسوں میں سیٹلائٹ نور کی ایک سیریز لانچ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے خلائی پروگرام کا مقصد،مختلف سائنسی ، تحقیقی ا ور دفاعی سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں مستحکم کرنا ہے اور پھر اسے 36ہزار کلو میٹر کےفاصلے پر مدار میں پہنچانا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اسی طرح کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک ٹیکنالوجی جو سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچانے کے لیے استعمال ہوتی ہے،تہران کو طویل فاصلے تک مار کرنےوالے ہتھیاروں بشمول جوہری وار ہیڈز کو لانچ کرنے کے قابل بناسکتی ہے۔

تہران نے ان امریکی دعووں کی تردید کی ہے کہ اس طرح کی سرگرمی بیلسٹک میزائلوں کوترقی دینے کے لیے ہے اور کہا ہے کہ اس نے کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر کام نہیں کیا۔

نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایران کے دوسرے فوجی سیٹلائٹ نور ٹو کو کامیابی کے ساتھ زمین سے پانچ سو کلومیٹر دور مدار میں پہنچادیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ شاہ رود خلائی اسٹیشن میں قاصد یا مسنجر کیرئر سے لانچ کیا گیا۔ یہ اسی طرح کا راکٹ تھا جو پہلے فوجی سیٹلائٹ کے لیے استعمال ہوا تھا، جس میں مائع اور ٹھوس ایندھن کا امتزاج استعمال ہوتا ہے۔

وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ دسمبر میں راکٹ کے مطلوبہ رفتار تک پہنچنے میں ناکامی کی وجہ سے ایران کا خلائی لانچ سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا تھا۔

سیٹلائٹ لانچ کی اس کوشش کو امریکہ، جرمنی اور فرانس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران، مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑے میزائل پروگرام پر کام کررہا ہے۔ لیکن اسے حالیہ برسوں میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے کئی سیٹلائٹ لانچنگ میں ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکہ نے 2019میں ایران کی سویلین خلائی ایجنسی اور اس کے دو تحقیقی اداروں پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی تھی کہ انھیں تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔لیکن تہران اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی خلائی سرگرمیاں بیلسٹک میزائل کو ترقی دینے کے لیے ہیں۔

(اس خبر میں مواد خبررساں ادارے رائٹرز سے لیا گیا ہے)



Source link