ایران کے صدارتی الیکشن کے ابتدائی نتائج میں قدامت پسند ابراہیم رئیسی کو برتری حاصل

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے الیکشن آفس کے جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق عدلیہ کے سربراہ اور قدامت پسند امیدوار ابراہیم رئیسی کو فریقین پر واضح برتری حاصل ہے۔۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ارنا’ کے مطابق نائب وزیرِ داخلہ اور الیکشن آفس کے سربراہ جمال عرف نے اعلان کیا کہ ہفتے کی صبح گیارہ بجے تک دو کروڑ 86 لاکھ ووٹوں کی گنتی کی گئی جن کے مطابق رئیسی کو ایک کروڑ 78 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔

الیکشن آفس کے مطابق ابتدائی نتائج میں صدارتی امیدوار محسن رضائی 33 لاکھ ووٹ، عبد الناصر ہمتی 24 لاکھ اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی 10 لاکھ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

اس کے باوجود کہ ابھی حتمی نتائج آنا باقی ہیں محسن رضائی، عبد الاناصر ہمتی اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی کی طرف سے بھیجے گئے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں ابراہیم رئیسی کو فتح پر مبارک باد دی گئی ہے۔

محسن رضائی کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے کوئی کوشش نہیں چھوڑیں گے۔

عبد الناصر ہمتی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ابراہیم رئیسی کی حکومت ایرانیوں کو اچھی زندگی فراہم کرے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی۔

امیر حسین قاضی زادہ کی طرف سے موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے باوجود الیکشن عمل میں لوگوں کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا گیا۔

دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جلد ہی انتظامیہ نئی حکومت کے سپرد کر دی جائے گی۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایران کے صدارتی انتخابات میں منتخب ہونے والے ابراہیم رئیسی کو فتح پر مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

کم ٹرن آؤٹ

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حکام کی طرف سے ووٹنگ کے مقررہ وقت میں دو گھنٹوں کی توسیع کیے جانے کے باوجود ووٹر ٹرن آؤٹ کم دیکھا گیا۔

حکام کی طرف سے ووٹنگ کے لیے مقررہ وقت کو جمعے کی رات بارہ بجے سے بڑھا کر رات دو بجے تک کر دیا گیا۔ تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لے سکیں۔

وزارتِ داخلہ کی طرف سے ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق سرکاری طور پر کوئی اندازے پیش نہیں کیے گئے۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری ایجنسی ‘فارس’ کی رپورٹ کے مطابق مقامی وقت ساڑھے سات بجے تک 5 کروڑ 90 لاکھ اہل ووٹرز میں سے 37 فی صد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کی طرف اس کی تصدیق نہیں کی گئی جو کہ صدارتی انتخابات منعقد کرا رہی تھی۔

جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو دارالحکومت تہران میں آیت اللہ خامنہ ای نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں

مبصرین کے مطابق ووٹرز کی اکثریت اپنے حکمرانوں سے نالاں ہے جو کہ امریکی tpپابندیوں کی شکار معیشت، طویل وبا اور بد عنوانی سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔

سرکاری سطح پر ہونے والے جائزوں میں انتخابات سے پہلے ہی 40 فی صد سے کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ جو کہ ایران میں 1979 بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کے بعد صدارتی انتخابات میں ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ قرار دیا گیا۔

اس سے قبل 1993 میں ہونے والے انتخابات میں کم ترین ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جو کہ 50 فی صد تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی ایران سے کی جانے والی پوسٹوں میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔

جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو دارالحکومت تہران میں آیت اللہ خامنہ نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو دارالحکومت تہران میں آیت اللہ خامنہ نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے مناظر میں ووٹرز لائنوں کے کلوز اپس دکھائے گئے اور کچھ مقامات پر دیکھا گیا کہ سیاسی شخصیات لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب کر رہے ہیں۔

ان شخصیات میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی اور معروف صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی شامل تھے جن کے بارے میں پہلے ہی خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ باآسانی جیت جائیں گے۔

ایران کی گارڈین کونسل کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کی رئیسی اور دیگر چھ امیدواروں کو اجازت دی گئی تھی۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے دیگر سیکڑوں خواہش مندوں کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

ملک کے اندر اور باہر ایک ہفتے قبل سے انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی تھی اور ان انتخابات کو ‘شیم انتخابات’ قرار دیا گیا تھا۔

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے سات میں سے تین امیدوار رواں ہفتے بدھ کو مقابلے سے دست بردار ہو گئے تھے جن میں سے دو امیدوار قبراہیم رئیسی کی طرح انتہائی قدامت پرست جب کہ دو قدرے اعتدال پسند تھے۔

ایران کے انتخابی نظام کے مطابق اگر کوئی ایک امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو ایک ہفتے بعد رن آف انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔



Source link

Leave a Reply