بشار الاسد نے چوتھی بار شام کے صدر کا حلف اٹھا لیا

شام کے صدر بشار الاسد نے رواں سال مئی میں انتخابات میں 95 فی صد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب انہوں نے شورش زدہ ملک کے صدر کا چوتھی بار حلف اٹھا لیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق بشار الاسد نے آئین اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پر حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب میں 600 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی جن میں وزرا، کاروباری شخصیات، ماہرینِ تعلیم اور صحافی شامل تھے۔

بشار الاسد کی چوتھی مدتِ اقتدار مزید سات برس کے لیے ہو گی جب کہ بشار الاسد کا خاندان گزشتہ چھ دہائیوں سے شام میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کے والد حافظ الاسد تین دہائیوں تک اقتدار میں رہ چکے ہیں۔

رواں سال مئی میں ہونے والے انتخابات کو یورپ اور امریکہ کی طرف سے ‘غیرمنصفانہ اور جانب دارانہ’ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا گیا تھا۔

افتتاحی خطاب میں بشار الاسد کا کہنا تھا کہ انتخابات میں عوام کی رائے کی اہمیت واضح ہوئی ہے اور اور قانونی طریقۂ کار بھی یہ ہے کہ عوام کی رائے سے فیصلہ ہو۔

شام کے صدر نے خطاب کے دوران کہا کہ جو لوگ وطن کی تباہی پر شرطیں لگا رہے تھے، انہیں اب شرمندہ ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ شام کے دو تہائی حصے پر حکومتی فورسز کا کنٹرول ہے جب کہ شمال کے متعدد علاقے ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

بشار الاسد کی چوتھی مدت اقتدار مزید سات برس کے لیے ہو گی جب کہ بشار الاسد کا خاندان گزشتہ چھ دہائیوں سے بر سر اقتدار ہے۔ (فائل فوٹو)

بشار الاسد کی چوتھی مدت اقتدار مزید سات برس کے لیے ہو گی جب کہ بشار الاسد کا خاندان گزشتہ چھ دہائیوں سے بر سر اقتدار ہے۔ (فائل فوٹو)

شام میں ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی میں بشار الاسد کو دوسری بار اقتدار ملا ہے۔ جب کہ اس خانہ جنگی میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

بشار الاسد نے ایسے وقت میں چوتھی بار اقتدار سنبھالا ہے کہ جب ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

شام کی 80 فی صد سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جب کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں شامی پاؤنڈ کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال 26 مئی کو ہونے والے انتخابات کی رات امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کا کہنا تھا کہ نہ تو یہ انتخابات منصفانہ تھے اور نہ ہی ان کا انعقاد غیر جانبدارانہ ہوا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے بھی انتخابات کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا تھا۔

بشار اسد نے ‘امید کے ذریعے روزگار’ کے انتخابی نعرے کے ساتھ الیکشن مہم چلائی تھی اور اپنے آپ کو تعمیر نو مرحلے کا واحد معمار قرار دیا تھا۔



Source link

Leave a Reply