ترکی کا امریکہ منتقلی کے منتظر افغان مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار

ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے اس اعلان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو اپنا امیگریشن پراسس مکمل ہونے تک کسی تیسرے ملک میں، جس میں ترکی شامل ہے، قیام کرنا ہو گا جس میں ایک سال سے زیادہ لگ سکتا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان تانجو بلگیک نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ کے اس بیان میں، ترکی سے مشورہ کیے بغیر یہ کہا گیا ہے کہ ترکی بھی درخواست گزاروں کے لیے ایک عبوری مقام ہو گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ترکی کے پاس پناہ گزینوں کے ایک اور بحران کا سامنا کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ ان لوگوں کو طیارے کے ذریعے براہ راست لے جا سکتا ہے۔ ترکی تیسرے ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریاں قبول نہیں کرے گا۔

بلگیک کا کہنا تھا کہ ترکی دوسرے ملکوں کو اپنے قوانین سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ترک صدر اردوان۔ فائل فوٹو

ترک صدر اردوان۔ فائل فوٹو

ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اس اعلان سے پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ترکی اس وقت 37 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جو اپنے ملک میں خانہ جنگی سے فرار ہو کر ترکی چلے گئے تھے۔

شام کی طرح بہت سے افغان باشندوں نے بھی اپنے ملک میں جاری جنگ اور عدم استحکام سے بچنے کے لیے ترکی میں پناہ لے رکھی ہے۔

ترکی سے ملحق ایران کے سرحدی قصبوں سے ملنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے راستے ترکی میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کن افغان باشندوں کو خصوصی امیگریشن دے رہا ہے؟

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ میں پناہ حاصل کرنے کے اہل افغان باشندوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے جس میں امریکہ میں قائم میڈیا تنظیموں، امدادی اداروں، ترقیاتی امور سرانجام دینے والی ایجنسیوں کے موجودہ اور سابقہ ملازمین اور ان لوگوں تک بڑھا رہا ہے جو امریکی حکومت اور نیٹو فوجی آپریشن سے منسلک پروگرام کی شرائط پر پورا نہیں اترے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس، فائل فوٹو

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس، فائل فوٹو

تاہم، محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی امیگریشن حاصل کرنے کے خواہش مند ایسے افراد کو اس پراسس کے مکمل ہونے کے لیے 12 سے 14 ماہ تک ایک تیسرے ملک میں انتظار کرنا ہو گا اور امریکہ اس سفر اور تیسرے ملک میں قیام کے لیے ان کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ترکی افغان پناہ گزین قبول کرنے پر تیار کیوں نہیں؟

وائس آف امریکہ کی ترکش سروس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی نے امریکہ کے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی جیسے تیسرے ملک کو ان ہزاروں افغان شہریوں کو اپنے یہاں آباد کرنا پڑے گا جو امریکہ سے اپنے رابطوں کی بنا پر طالبان کا ہدف بن سکتے ہیں۔

ترکی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر فاریتن التوم نے کہا ہے کہ ترکی نہ اب اور نہ ہی مستقبل میں کسی اور ملک کے لیے ویٹنگ روم کے طور پر کام کرے گا۔ ہم اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان تان جو بلگیک نے امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہمارے خطے میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران جنم لے گا اور نقل مکانی کرنے والے افغان باشندوں کے دکھوں میں اضافہ کرے گا۔

ترکی کی حزب اختلاف کی مرکزی جماعت سی ایچ پی کے رہنما کمال کیلک داروگلو نے اس منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے صدر اردوان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اپنی گزشتہ دوطرفہ ملاقات میں اس بارے میں ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا۔

انہوں نے انگریزی زبان میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی سی ایچ پی کی حکومت ایسے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کرے گی جو اردوان نے کیا ہو گا۔

ٹوئٹ میں امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ نے اردوان سے جو کچھ کہا ہے یا جو پیغام دیا ہے، اس کی پابندی صرف ان پر ہے نہ کہ جمہوریہ ترکی پر۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا 31 اگست کو مکمل ہو رہا ہے، جب کہ میڈیا اطلاعات کے مطابق، جولائی کے آخر تک 95 فی صد غیر ملکی فوجی اپنے ملکوں کو واپس جا چکے ہیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کابل میں اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیے معقول تعداد میں سیکیورٹی اہل کار تعینات کرے گا، جب کہ کابل کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تحفظ کے لیے ترکی اپنے فوجی تعینات کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ دوسری جانب، طالبان نے کہا ہے کہ وہ ترکی سمیت کسی بھی غیرملکی فوجی کی ایئرپورٹ پر موجودگی کو غیرملکی مداخلت سمجھتے ہوئے اس کے خلاف جہاد کریں گے۔

امریکہ نے امریکی اور نیٹو فورسز کے افغانستان میں قیام کے دوران مترجم، ڈرائیور اور دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے افغان شہریوں کو، ان کے تحفظ کے پیش نظر انہیں اور ان کے خاندانوں کی امریکہ میں منتقلی اور امیگریشن دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں 200 سے زیادہ افغان شہریوں کی پہلی کھیپ جولائی کے آخر میں امریکہ پہنچ چکی ہے۔

امیگریشن سے متعلق پہلی کیٹیگری میں آنے والے افغان باشندوں کی منتقلی اگست میں مکمل ہونے کا امکان ہے، جب کہ دوسری کیٹیگری میں شامل افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی تیسرے ملک میں اپنا امیگریشن پراسس مکمل ہونے کا انتظار کریں جس میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تیسرے ملک کی آپشن میں ترکی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ادھر طالبان نے کہا ہے کہ ماضی میں غیر ملکی فورسز کے لیے خدمات سرانجام دینے والے افغان شہری اگر اپنی وفاداریاں اپنے ملک کی جانب منتقل کر لیتے ہیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔



Source link

Leave a Reply