جنگ بندی کے بعد حماس کے ٹھکانوں پر اسرائیل کی پہلی فضائی کارروائی

اسرائیلی طیاروں نے بدھ کی صبح غزہ میں پھر فضائی حملے کیے ہیں جسے فلسطینی علاقوں سے آتش گیر غبارے چھوڑے جانے کا ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شدت پسند گروپ حماس کے ٹھکانوں پر کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد فریقین مصر کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر متفق ہوئے تھے جس کے بعد بدھ کی صبح اسرائیل کی یہ پہلی کارروائی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس فضائی کارروائی کا ہدف حماس کے شدت پسندوں کی وہ تنصیبات تھیں جہاں مبینہ حملوں کی منصوبہ سازی کے لیے ملاقاتیں جاری تھیں۔

اسرائیلی فوج نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ غزہ سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی اسی شدت پسند گروہ کی کارستانی ہوتی ہے۔ فوری طور پر ہلاک و زخمی ہونے والوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب منگل کو سیکڑوں اسرائیلی قدامت پسند قوم پرستوں نے مشرقی یروشلم میں مارچ کیا۔

مارچ سے قبل حماس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی قوم پرستوں نے مشرقی یروشلم میں یہ مارچ کیا تو وہ اس پر ردِعمل دیں گے۔

لیکن شیڈول کے مطابق یہودیوں نے مشرقی یروشلم میں مارچ کیا اور دمشق گیٹ کے سامنے بھی جمع ہوئے۔

ہر برس اسرائیلی قدامت پسند 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی یروشلم کی فتح کی خوشی میں مارچ کرتے ہیں جب کہ فلسطینی اسے ایک اشتعال انگیزی خیال کرتے ہیں۔

اسرائیلی حملے میں کسی ہلاکت یا زخمیوں کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

اسرائیلی حملے میں کسی ہلاکت یا زخمیوں کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

اطلاعات کے مطابق مارچ کے دوران چند شرکا نے ‘عربوں کی موت’ کے نعرے لگائے۔ جوابی کارروائی کے طور پر غزہ کے فلسطینیوں نے آتشیں غبارے چھوڑے جو جنوبی اسرائیل میں کم از کم 10 مقامات پر آگ لگنے کا موجب بنے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے موقع پر ریلی نکالنا اسرائیل کی نئی حکومت کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کے کمزور معاہدے کا بھی امتحان تھا۔

حماس نے فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ مارچ نکالنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ بقول حماس، اسی طرح کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہی گزشہ ماہ 11 دنوں تک غزہ کی لڑائی کو شہ ملی تھی۔

مارچ کے شرکا مشرقی یروشلم میں دمشق گیٹ کے سامنے جمع ہیں۔

مارچ کے شرکا مشرقی یروشلم میں دمشق گیٹ کے سامنے جمع ہیں۔

موسیقی کی دھن پر رقص کرتے سیکڑوں یہودی قوم پرست ‘بابِ دمشق’ کے سامنے اکٹھے ہوئے اور آگے بڑھے۔ ان میں سے زیادہ تر نوجوان تھے جنہوں نے اسرائیلی پرچم اٹھا رکھے تھے۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ یائر لیپڈ نے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں مارچ کے شرکا کے رویے سے متعلق کہا کہ وہ افراد جو نسل پرستانہ نعرے بلند کر رہے تھے ”اسرائیلی عوام کے لیے باعث شرم ہیں۔”

مارچ سے قبل اسرائیلی پولیس نے ‘باب دمشق’ کے نزدیکی علاقے میں ہجوم کو منتشر کر کے سڑک بند کر دی تھی جب کہ دکانوں کو بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔ اس دوران پولیس نے احتجاج کرنے والے نوجوان فلسطینیوں کو بھی منتشر کیا۔

پولیس کے مطابق اس موقع پر سنگ باری کرنے والے 17 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتھر لگنے سے دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران 250 فلسطینی جب کہ 13 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔



Source link

Leave a Reply