داعش، عراق اور شام میں اب بھی موجود ہے: انٹیلی جنس رپورٹ



عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق عراق سے امریکہ کے لڑاکا فوجی مشن ختم کرنے کے اعلان کے باوجود داعش اب بھی عراق میں فعال ہے۔

یہ انٹیلی جنس رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ نے رواں برس دسمبر تک عراق میں امریکہ کا فوجی مشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی کی ذمے داریاں عراق کی فورسز کے سپرد کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق خفیہ اداروں کی یہ تجزیاتی رپورٹ اقوامِ متحدہ کی سینکشن مانیٹرنگ ٹیم نے جمعے کو جاری کی ہے جسے رُکن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے مرتب کیا ہے۔

اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی دھچکوں کے باوجود داعش جس کو ‘آئی ایس آئی ایس’ یا ‘آئی ایس آئی ایل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک ایسا مسئلہ بننے کو تیار ہے جو عراق اور پڑوسی ملک شام کو درپیش ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ گروپ ایک مضبوط عسکری قوت میں ڈھل چکا ہے اور مقامی سیکیورٹی کی خامیوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے تاکہ محفوظ ٹھکانے بنا سکے اور آئی ایس آئی ایل کے خلاف لڑنے والی قوتوں کو ہدف بنا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغداد میں جنوری اور اپریل میں ہونے والے حملے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ گروپ میں مزاحمت کی صلاحیت ہے۔ باوجود اس کے کہ عراقی حکام کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے لیے سخت دباؤ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش کے لیے جب بھی ممکن ہوا تو یہ ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے اور عراقی حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے دارالحکومت بغداد میں ممکنہ طور پر عام شہریوں اور دیگر آسان اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی۔

بغداد میں حملے کرنے کی اہلیت کے ساتھ ساتھ، اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی ایجنسیوں کے خیال میں یہ دہشت گرد گروپ عراقی صوبوں دیالا، صلاح الدین اور کرکوک میں بھی خود کو دوبارہ منظم کر رہا ہے جہاں اس کے عسکریت پسندوں نے رابطہ سڑکوں پر حملے کیے ہیں۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ داعش کے عسکریت پسند عراق کے مختلف صوبوں کے درمیان کمزور رابطوں کا بھی کامیابی سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

بعض انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ عراق اور شام کے اندر غیر مستحکم سیاسی صورتِ حال داعش کو مزید مواقع دے سکتی ہے کہ وہ خود کو مضبوط بنائے۔

کیا داعش کمزور ہوئی ہے؟

اس رپورٹ کے برعکس امریکی حکام کے داعش سے متعلق حالیہ اندازوں کے مطابق شدت پسند گروپ اب بہت کمزور ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ اب عراق اور شام میں کل ملا کر آٹھ ہزار کے قریب جنگجو رکھتا ہے جب کہ اس کے عروج کے دنوں میں یہ تعداد 34 ہزار کے قریب تھی۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ بھی اسی طرح یہ اشارہ کرتی ہے کہ بعض حوالوں سے داعش اپنے ماضی کا ڈھانچہ ہے اور دیکھا گیا ہے کہ عراقی فورسز نے اس کی قیادت کو بہت کمزور کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی انٹیلی جنس اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گروپ کے خود ساختہ خلیفہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی جس کو امیر محمد سعید عبدلرحمٰن ال مولا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اپنے حامیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت سے گریز کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس گروپ کے مالی وسائل بھی کمزور ہوئے ہیں۔



Source link

Leave a Reply