دولت اسلامیہ کو سربراہ کی تلاش، ہو سکتا ہے نیا سربراہ بھی پیش رو کی طرح معمہ ہی رہے



گزشتہ ہفتے شمال مغربی شام میں امریکی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں اہل خانہ سمیت دولت اسلامیہ کا سربراہ، ابو ابراہیم الہاشمی القریشی ہلاک ہو گیا۔اس سے دو ہی برس قبل اکتوبر 2019 میں جب داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت ہوئی تھی تب تک داعش اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کا ایک بڑا حصہ کھو چکی تھی۔ البتہ اس کی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں۔

اور اب داعش کی قیادت سے متعلق انٹیلیجنس اداروں اور غیر سرکاری تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ دولت اسلامیہ یا داعش کے سینئر رہنماؤں کو پہلے ہی اندازہ ہے کہ اس دہشت گرد گروپ کا آئندہ قائد کون ہوگا، جبکہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم میں نئی روح پھونکنا چاہتے ہیں اور مغرب پر حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ گروپ کے اندرونی حلقے اور شاید داعش کے ساتھی گروہوں کے لیڈروں کو ا س نام کا علم ہو ، لیکن آ ئندہ سربراہ ظاہر ہو جانے کے بعد بھی باہر کی دنیا کےلیےممکن ہے کہ وہ ایک معمہ ہی رہے۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ میں مشرق قریب کی پالیسی کےلیے فیلو،آرون زیلن جہادازم سے متعلق معلومات رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یقینی طور پر یہ ایک سلسلہ وار پروگرام ہے جسے داعش نافذ کرنا چاہتی ہے، جیسا کہ اس نے سابق لیڈر ابو بکر البغدادی کے بعد کیا تھا۔انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ داعش کا پیغام دینے کا ایک ٹھوس نظام موجود ہے ، جب فیصلہ ہو جائیگا ،تو وہ اعلان کر دیں گے۔

سن دوہزار انیس میں بغدادی کی موت کے بعد داعش کو ہلاکت کی تصدیق میں صرف پانچ دن لگے جس کے بعد فرضی نام والے ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔

تاہم ،مغربی عہدیداروں کو یہ جاننے میں ایک سال لگا کہ القریشی حقیقت میں امیر محمد سید ابو الرحمان المولیٰ تھا ،جو ایک مذہبی دانشور تھا اور وہ سن دوہزار چار میں بصرہ عراق میں ایک امریکی قیدخانے،کیمپ بکا میں بغدادی کے ساتھ قید تھا۔

لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ رحمان المولیٰ کے جانشین کا اعلان فوری کردیاجائیگا ،جو تین فروری کو شمال مغربی شام میں اپنے گھر پر حملے میں ہلاک ہوا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ نئے لیڈر کے نام کا فیصلہ کرنے کے لیے سینئیر لیڈروں کی ملاقات میں تاخیر ہو جائے ،کیونکہ خدشہ یہ ہے کہ حملے کے دوران امریکی فورسز کو گروپ کی سیکیورٹی کی اطلاعات ہاتھ لگ گئی ہوں گی۔

داعش کے نئے لیڈر کے باقاعدہ انتخاب اور انہیں متعارف کروانے کا عمل اس لیے بھی متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ دہشت گرد گروپ کی اعلیٰ قیادت کو پچھلے چند سالوں میں بری طرح نشانہ بنایا گیا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے آرون زیلن کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد نے اعلٰی سطح کے اتنے لیڈروں کو ہلاک کیا ہے کہ اب شاید ہی کوئی ایسا لیڈر ہو جو قیادت سنبھال سکے۔

عالمی انٹیلیجنس فرم صوفان گروپ کے ڈائریکٹر آف پالیسی اینڈ ریسرچ ،کولن کلارک کا کہنا ہے کہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پچھلے برسوں میں متعدد لیڈرز ہلاک کر دیے گئے تو اندازہ ہوتاہے کہ کون شخص بچ گیا ہوگا جسے لیڈر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ عمر رسیدہ شخص ہو ، ایسا شخص جو معتبر ہو۔دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ داعش کے پاس انتخاب محدود ہو اور وہ کسی نوجوان کو منتخب کر لیں ،جو دہشت گرد گروپ کے اندرونی حلقوں میں نیا ہو۔

نیا لیڈر کوئی بھی ہو اور جب کبھی بھی اس کا اعلان کیا جائے ماہرین توقع رکھتے ہیں کہ گروپ اپنے بھرم اور اعتماد کو قائم رکھنے کی کوشش کرے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہیں گے کہ نیا لیڈراعلیٰ خاندان سے ہے اور صحیح حسب نسب رکھتا ہے۔

جیسا کہ المولیٰ ،المعروف الہاشمی القریشی نے ظاہر کیا تھا کہ وہ اپنے پیشرو بغدادی کی طرح پیغمبراسلام کے قبیلے سے ہیں۔

انٹیلیجنس عہدیدار اور تجزیہ کار یہ توقع کرتے ہیں کہ جیسا کہ المولیٰ کے قیادت سنبھالنے کےاعلان کے فوراً بعد ہوا تھا ،افریقہ اور ایشیا سے داعش کے اہم اتحادیوں کی جانب سے وعدوں کا ایک سلسلسہ شروع ہو جائے گا کہ وہ نئی خود ساختہ خلافت کے وفادار ہیں۔



Source link