روس، یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو ‘سرخ لکیر’ کیوں سمجھتا ہے؟



یوکرین کی سرحدوں پر روس نے گزشتہ برس اپنی فوجی قوت بڑھانا شروع کی جس کے بعد سے یوکرین پر روس کے حملے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔اس تنازع کے باعث روس کے ساتھ امریکہ کے زیر قیادت مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کے تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

روس کے نزدیک یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت سرخ لکیر ہے اور مبصرین کے مطابق حالیہ تنازع میں بھی روس کشیدگی بڑھا کر یوکرین کو نیٹو میں شامل نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر روس کے صدر ولادی میر پوٹن نیٹو میں یوکرین کی شمولیت سے بڑھ کر مغربی ممالک سے اپنی دیگر شکایات کا ازالہ کرانا چاہتے ہیں۔

صدر پوٹن کویہ خدشہ لاحق ہے کہ سرد جنگ میں نیٹو کے اثر و رسوخ کی جو حد بندی ہوئی تھی مشرقی یورپ میں نیٹو کے ارکان بڑھنے سے امریکہ اور مغربی ممالک ان حدود سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان کے اثرات روس کی سرحدوں تک پہنچ گئے ہیں۔

روس کو خدشہ ہے کہ اگر نیٹو میں مزید توسیع ہوئی تو روس کو خطے میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس لیے وہ امریکہ اور نیٹو سے یوکرین کو نیٹو کا رکن نہ بنانے کی یقین دہانی پر زور دے کر کئی دیگر یقین دہانیاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس کے جواب میں امریکہ اور نیٹو کا اصولی موقف یہ ہے کہ کسی بھی یورپی ملک کو اتحاد کی رکنیت دینے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ روس سمیت یورپ کے تمام ممالک کا نیٹو میں شمولیت کا حق تسلم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر ملک کو کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی ہے۔

روس کے لیے نیٹو اتنا اہم کیوں ہے اور یوکرین کی اس دفاعی اتحاد میں شمولیت اس کے لیے حساس مسئلہ کیوں ہے؟ یہ اور ایسے دیگر سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے روس اور نیٹو کے تعلقات کا تاریخی پسِ منظر سمجھنا ضروری ہے۔

کمیونزم کے بڑھتے قدم

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ کے دیگر ممالک نے 1949 میں ’نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی بنیاد رکھی تھی۔ سوویت یونین کے مقابلے میں مشترکہ دفاع اس اتحاد کا بنیادی مقصد تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد بظاہریہ عسکری اتحاد زمانہ ٔ امن میں تشکیل پایا تھا۔عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے یورپی ممالک کو اپنی معاشی تعمیر نو اور دفاع کے لیے امداد کی ضرورت تھی۔

اس کے علاوہ اس خطے میں سوویت یونین اور کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مقابلے کے لیے بھی معاشی اور دفاعی قوت کی ضرورت تھی۔

امریکہ کو یہ خدشہ درپیش تھا کہ اپنی مضبوط عسکری قوت کی بنا پر سوویت یونین یورپی ممالک میں کمیونزم کے پھیلاؤ کی پشت پناہی کرے گا۔ جس کی وجہ سے یورپی ممالک جو عالمی جنگ کی وجہ سے معاشی و معاشرتی مشکلات کا سامنا کررہے تھے کمیونزم کی اس لہر کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

اس لیے جنگ سے متاثر یورپی ممالک کوکمیونزم کے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹںے میں مدد دینے کے لیے امریکہ نے مارشل پلان متعارف کرایا۔ یہ منصوبہ امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جارج سی مارشل نے پیش کیا تھا۔

اس پلان کے تحت یورپی ممالک کو صرف معاشی امداد ہی نہیں دی گئی بلکہ امریکی محکمۂ خارجہ کے ’آفس آف ہسٹورین‘ کے مطابق مارشل پلان نے یورپ اور امریکہ میں باہمی تعاون کو فروغ بھی دیا۔ اس مںصوبے کے تحت امریکہ نے یورپ کی جنگ زدہ معیشتوں کے لیے مالی امداد بھی فراہم کی تھی جو 1948 میں 12 ارب ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

مشرقی اور مغربی کیمپس

سوویت یونین نے مشرقی یورپ میں اپنے زیرِ اثر ریاستوں کو مارشل پلان کا حصہ نہیں بننے دیا۔ اس کے نتیجے میں مشرقی اور مغربی یورپ کے دو بلاکس بن گئے۔ مشرقی حصہ سوویت یونین کے زیرِ اثر تھا اور مارشل پلان کی وجہ سے مغربی یورپ کے ممالک کا امریکہ کے ساتھ مضبوط باہمی تعاون قائم ہو گیا۔

یونان میں جاری خانہ جنگی اور ترکی کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے مغربی یورپ کے ملکوں میں 1947 اور 1948 کے برسوں میں اپنے دفاع اور داخلی سلامتی سے متعلق خدشات میں بڑھنے لگے اور اسی دوران یورپ کے امور میں امریکہ کا کردار بھی بڑھ چکا تھا۔

یورپ اس وقت کئی سیاسی تبدیلیوں سے بھی گزر رہا تھا۔ وسطی یورپی ملک چیکو سلواکیہ میں سوویت یونین کی مدد سے کمیونسٹ حکومت قائم ہو گئی تھی۔ اٹلی کی انتخابی سیاست میں بھی کمیونسٹ پارٹی کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی مغربی و مشرقی حصے میں تقسیم تھا۔ مغربی حصہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے زیرِ انتظام تھا اور مشرقی حصے پر سوویت یونین کا کنٹرول تھا۔

برلن کی ناکہ بندی سے نیٹو تک

سن 1948 کے وسط میں سوویت یونین کے سربراہ جوزف اسٹالن نے مغربی برلن کو باقی مغربی جرمنی سے کاٹ دیا۔ سوویت یونین نے مئی 1949 تک یہ بندش برقرار رکھی۔ اس دوران شہر کو فضائی راستے سے مدد دے کر براہِ راست تصادم کا راستہ روکا گیا۔

’آفس آف ہسٹورین‘ کے مطابق لیکن اس بحران کے بعد امریکہ کو یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ مغربی یورپی ممالک کے سیکیورٹی خدشات مستقبل میں اسے سوویت یونین سے سمجھوتوں پر مجبور کر سکتے ہیں۔

اس ممکنہ صورتِ حال کا سدِ باب کرنے کے لیے اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین کی حکومت نے امریکہ اور یورپی ممالک کا ایسا اتحاد تشکیل دینے پرسوچ بچار شروع کر دی جس کے نتیجے میں امریکہ براہ راست مغربی یورپ کی سیکیورٹی میں مدد فراہم کرسکے۔ اسی مقصد کے تحت 1949 میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا اتحاد تشکیل دیا گیا۔

ابتدا میں امریکہ، کینیڈا، بیلجیم، ڈنمارک، فرانس اور برطانیہ سمیت 12 ممالک اس اتحاد کا حصہ بنے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کے صدر ٹرومین نے مشترکہ دفاعی تعاون کے ایک پروگرام کی تجویز دی جس کے تحت اکتوبر 1949 میں مغربی یورپ کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر امداد کی منظوری دی گئی۔

نیٹو کی تشکیل کے فوری بعد 1950 میں شمالی کوریا نے سوویت یونین ک مدد سے جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کو سوویت یونین کے براہ راست حملے کے طور پر دیکھا گیا۔ اسی جنگ کے بعد نیٹو کا ایک مرکزی ہیڈ کوارٹر بنایا گیا اور امریکہ نے ممکنہ سوویت جارحیت کے مقابلے میں یورپی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دیں۔

اس کے بعد نیٹو میں دیگر ممالک کے شمولیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1952 میں نیٹو میں یونان اور ترکی کو بھی شامل کر لیا گیا۔ 1955 میں مغربی جرمنی کو نیٹو کی رکنیت دی گئی۔

نیٹو بمقابلہ وارسا

نیٹو کے قیام کے ساتھ ہی پورے مغربی یورپ کو امریکہ کی ’جوہری چھتری‘ بھی مل گئی تھی۔ 1950 کی دہائی میں نیٹو کا یہ ملٹری ڈاکٹرائن سامنے آیا تھا کہ امریکہ اتحاد میں شامل کسی بھی ملک پر حملے کا جواب بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں سے دے گا۔ یہ بنیادی طور پر مغربی یورپ میں کسی ممکنہ سوویت حملے کی روک تھام کی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔

یہی وجہ تھی کہ مغربی جرمنی کے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کے بعد سوویت یونین نے ’معاہدہ وارسا‘ کی بنیاد ڈالی۔ 14 مئی 1955 کو سوویت یونین کے زیر اثر ریاستوں، البانیہ، بلغاریہ، چیکوسلواکیہ ، مشرقی جرمنی، ہنگری، پولینڈ اور رومانیہ نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے میں شامل ممالک کو اتحاد میں شریک کسی بھی ملک پر حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع اور داخلی امور میں مداخلت کو روکنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ لیکن اتحاد کے زیادہ تر فیصلوں پر سوویت یونین کا اختیار تسلیم کیا گیا تھا۔

بعد میں سوویت یونین نے اس معاہدے کو مشرقی یورپ میں اٹھنے والی پاپولر تحریکوں کو دبانے کے لیے بھی استعمال کیا۔

لیکن اتحاد بننے کے ایک دہائی بعد ہی اس میں شامل ممالک کو پیش آنے والی معاشی مشکلات نے رفتہ رفتہ وارسا پیکٹ کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔

سرد جنگ کا دور

وارسا معاہدے میں اپنے مغربی اور وسطی یورپ کے اتحادیوں کے ساتھ سوویت یونین اور نیٹو کے درمیان تعلقات میں تناؤ رہا۔

سوویت یونین کے سربراہ میخائل گورباچوف نے 1980 کی دہائی میں اصلاحات شروع کیں۔ اس دور میں مشرقی یورپی ممالک میں جمہوری اصلاحات کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں نیٹو کے ساتھ سوویت یونین کے تناؤ میں بھی کمی آنا شروع ہوئی۔

گورباچوف نے مشرقی یورپ میں اپنے اتحادی ممالک میں گرنے والی کمیونسٹ حکومتوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اسی لیے 1989 میں دیوارِ برلن گرنے کے بعد مشرقی و مغربی جرمنی کے اتحاد پر فوری آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

جرمنی کا اتحاد یورپ میں ایک نئے دور کا آغاز تھا کیوں کہ جرمنی ہی دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی یورپ اور امریکہ کے ساتھ سوویت یونین کی کشمکش کا مرکز رہا تھا۔

مشرقی و مغربی جرمنی کے ایک بار پھر متحد ہونے کی صورت میں یورپ میں سوویت یونین کو بڑی پسپائی ہوئی تھی اور وہ اس کے اثرات کی پیش بندی کے لیے بعض ضمانتیں چاہتا تھا۔

روسی حکام کا اصرار ہے کہ جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے مذاکرات میں گورباچوف کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نیٹو اپنے اتحاد کا دائرہ مزید مشرقی یورپی ممالک تک نہیں بڑھائے گا۔ لیکن یہ کوئی تحریری معاہدہ نہیں تھا بلکہ زبانی کلامی یقین دہانی تھی۔

’کونسل آن فارن ریلیشنز‘ کے مطابق اس وقت امریکہ اور سوویت حکام کی ملاقاتوں میں جرمنی کے متحد ہونے کے بعد اس کا مستقبل گفت و شنید کا محور تھا۔ اس میں نیٹو میں وسعت کا موضوع زیرِ بحث نہیں آیا تھا۔ سابق سوویت لیڈر گورباچوف نے بھی 2014 میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان برسوں میں نیٹو کی وسعت زیِر بحث نہیں آئی۔

اس کے بعد پے در پے سیاسی اور معاشی مسائل کے باعث 1991 میں سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا۔ 1999 میں مشرقی یورپ سے پولینڈ، ہنگری اور چیک ری پبلک نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد مسائل میں گھرے روسی صدر بورس یلسن اس پیش رفت پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے اتحادی سربیا پر نیٹو کی بمباری کے بعد روس کے ساتھ نیٹو کا پہلا تنازع پیدا ہوا۔

پوٹن اور نیٹو سے تعلقات

سن 2000 میں ولادی میر پوٹن صدر یلسن کی جگہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے فوری طور پر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے اقدامات شروع کر دیے اور اسی نیٹو اتحاد میں شمولیت کا عندیہ بھی دیا جو ماضی میں سوویت روس کی جارحیت کو روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ جریدے ’فارن پالیسی‘ میں شائع ہونے والے دفاعی امور کی ماہر الزبتھ برو کے مضمون کے مطابق 1999 سے 2004 تک نیٹو کے سیکریٹری جنرل رہنے والے لارڈ جارج رابرٹسن سے پوٹن نے پوچھا تھا کہ نیٹو روس کو اتحاد میں شامل کرنے کی دعوت کب دے رہا ہے۔ جس پر رابرٹسن نے کہا تھا کہ نیٹو میں شمولیت کے لیے دعوت نہیں دی جاتی بلکہ قواعد کے مطابق روس کو اتحاد میں شامل ہونے کے لیے درخواست دینا پڑے گی۔

ان کے مطابق پوٹن نے یہ جواب سن کر برہمی کے ساتھ کہا تھا کہ روس نیٹو میں شمولیت کے لیے ایسے بہت سے ممالک کے ساتھ قطار میں کھڑا نہیں ہوگا جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

اس پر رابرٹسن نے پوٹن سے کہا تھا کہ چلیں پھر سفارتی تعلقات بڑھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

بعدازاں پوٹن نے یہ کہا تھا کہ نیٹو روس کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے آمادہ نہیں کیوں کہ مغربی ممالک روس کی طاقت اور آزادانہ مؤقف سے خوف زدہ ہیں۔

البتہ نیٹو رکنیت کے امکانات کے جائزے کے ساتھ ساتھ ساتھ پوٹن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے قریبی تعلقات بنانے کی کوششیں بھی شروع کر دیں۔

امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد پوٹن پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت تھے جنہوں نے صدر بش کو فون کرکے تعاون کی پیش کش کی تھی۔ انہوں نے افغانستان پر حملے کے لیے ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والے وسطی ایشیائی ممالک میں امریکہ کے اڈے بنانے کا خیر مقدم کیا تھا۔ خیرسگالی کا پیغام دینے کے لیے پوٹن نے کیوبا اور ویت نام کے سوویت دور میں قائم کیے گئے فوجی اڈے بھی بند کر دیے تھے۔

روس نیٹو میں شامل نہیں ہو سکا لیکن 2002 میں دونوں کے مابین دہشت گردی سے مقابلے سمیت دیگر امور پر باہمی تعاون کے لیے ایک کونسل بنانے پر اتفاق ہو گیا تھا۔

سرد مہری دوبارہ بڑھنے لگی!

روس اور نیٹو کے تعلقات میں 2002 میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنا شروع ہو گئی۔ اس بار اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے سرد جنگ کے دوران 1972 میں سوویت یونین کے ساتھ ہونے والے ’اینٹی بیلسٹک میزائل‘ معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان ’اسٹریٹجک ہتھیاروں کی دوڑ‘ روکنے کے لیے کیے گئے اس معاہدے کے تحت فریقین کو بیلسٹک میزائل شکن سسٹم کی تنصیب محدود کر دی گئی تھی۔

بنیادی طور پر اس معاہدے میں سوویت یونین اور امریکہ کو دو مخصوص مقامات پر دفاعی نظام کی تنصیبات قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس میں ہر مقام کو صرف 100 میزائل مار گرانے کی استعداد تک محدود رکھا گیا تھا۔ 1974 میں دونوں ممالک نے یہ تعداد نصف کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔

امریکہ کی اس معاہدے سے علیحدگی کو روس نے اپنی جوہری ڈیٹرنس کے لیے خطرہ تصور کیا کیوں کہ اس کے تحت بیلسٹک میزائل بنانے، ان کے تجربات اور ان کے حملوں کو روکنے کے لیے سسٹمز کی تنصیت سمیت کئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

امریکہ کے اس اقدام پر روس نے شدید ردِعمل ظاہر کیا اور 2003 میں امریکہ کی عراق جنگ کے فیصلے پر بھی شدید تنقید کی۔

اس کے بعد 2004 میں جب بلغاریہ، رومانیہ، سلواکیا، سلوینیا اور سوویت یونین میں شامل رہنے والے سابق ممالک اسٹونیا، لیٹویا اور لتھونیا نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی تو روس کے ساتھ نیٹو کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنا شروع ہو گئی۔

یوکرین میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کی وجہ سے روس کے حمایت یافتہ امیدوار کی کامیابی کے نتائج منسوخ کرنا پڑے۔2004 میں ہونے والے اس احتجاج کو ’اورینج ریولوشن‘ کا نام دیا گیا تھا۔

یوکرین میں احتجاجی مظاہروں اور اس سے قبل سابق سوویت ملک جارجیا میں روس کی حامی حکومت کی برطرفی کو روس نے مغربی ممالک کی مداخلت قرار دیا۔

اپنے اسی مؤقف کی بنا پر صدر پوٹن نے 2007 میں میونخ کی سیکیورٹی کانفرنس میں امریکہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ واشنگٹن ہر جانب اپنی ’سرحدیں‘ پھیلا رہا ہے۔ پوٹن نے مشرقی یورپ میں نیٹو کی توسیع کو بھی ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔

نیٹو نے 2008 میں رومانیہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں جب یوکرین اور جارجیا کو رکنیت دینے کا اعلان کیا تو روس نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اس کے چار ماہ بعد جب جارجیا نے جنوبی صوبے میں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے علاقے واپس لینے کے لیے فوجی قوت کا استعمال کیا تو روس اس تنازع میں کود پڑا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین پانچ روزہ جنگ ہوئی۔

روس نے جارجیا کے جنوبی صوبے اوستیا اور ابخازیا کو علیحدہ ملک تسلیم کرکے وہاں اپنی فوج بھیج دی۔

یوکرین کا تنازع

روس کی جانب جھکاؤ رکھنے والے یوکرین کے اس وقت کے صدر وکٹور یانوکووچ نے 2014 میں ماسکو سے تعلقات بڑھانے کے لیے یورپی یونین سے منسلک ہونے کا معاہدہ مسترد کر دیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اس احتجاجی لہر کے نتیجے میں یانوکووچ کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔

یوکرین ان 14 ریاستوں میں شامل ہیں جو 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قائم ہوئیں۔ ان میں دیگر ریاستوں کے مقابلے میں یوکرین کو علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کرنا کئی تاریخی اسباب سے روس کے لیے مشکل رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے تعلق کی تاریخ نویں صدی سے شروع ہوتی ہے جب کیف قدیم روسی سلطنت کا دار الحکومت بنا تھا اور سن988 میں شہزادہ ولادی میر نے روس کو آرتھوڈکس مسیحیت سے متعارف کرایا تھا۔

روس 2008 میں یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کے عندیے پر پہلے ہی ردعمل ظاہر کر چکا تھا۔ پھر یوکرین سے متعلق اپنی اس تاریخی حساسیت کی وجہ سے وہاں روس حامی حکومت کے خاتمے کو علاقائی سیاست میں روس نے اپنے لیے پسپائی تصور کیا اور اس کے ردِعمل میں 2014 میں یوکرین کے علاقے کرائمیا پر حملہ کر دیا۔

کرائمیا پر روس کے قابض ہونے کے بعد علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں پیش قدمی شروع کر دی۔

یوکرین کے مشرقی صنعتی مرکز ڈونباس میں روس کے کئی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں اور وہاں ہونے والی لڑائی میں 14 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔لڑائی میں شدت آنے کے بعد یوکرین کے مقابلے میں علیحدگی پسندوں کو پسپائی ہونے لگی تو روس نے ان کی مدد کے لیے مشرقی یوکرین پر حملہ کر دیا۔

جرمنی اور فرانس کی مصالحت سے 2015 میں یوکرین میں جنگ بندی ہوئی لیکن صورت حال کا کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہو سکا اور وقتاً فوقتاً جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

یوکرین پر جاری حالیہ تنازع کا آغاز گزشتہ برس سے ہوا جب مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو گیا اور روس نے یوکرین کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی۔ روس کے اس اقدام کے بعد سے جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔



Source link