روس اور یوکرین میں مصالحت؛ ’اسرائیل یہ جانے بغیر پانی میں اتر چکا ہے کہ یہ کتنا گہرا ہے‘



اسرائیل کے وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ ہفتے کو اچانک روس کے دورے پر پہنچے۔ ان کے اس دورے کو روس اور یوکرین کے درمیان مصالحت کی غیر متوقع کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

نفتالی بینیٹ کو وزیرِ اعظم منتخب ہوئے ایک سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر کسی سفارتی معاملے میں سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق نفتالی بینیٹ نے یوکرین اور روس کے درمیان ثالثی کے مشکل میدان کا انتخاب کیا ہے جو انہیں اس سفارتی محاذ کا اہم کردار بھی بنا سکتا ہے۔ البتہ یوکرین اور روس کا تنازع اس وقت جو رُخ اختیار کر چکا ہے اس میں یہ سرگرم کردار اسرائیل کے لیے کئی پہلوؤں سے معنی خیز ہے۔

ان کوششوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں اسرائیل اور امریکہ رابطے میں ہیں البتہ ان کے نتائج تا حال واضح نہیں ہیں۔

پیر کو امریکہ کے سیکریٹری خارجہ اینٹنی بلنکن نے یوکرین کے پڑوسی ملک لٹویا میں اسرائیل کے وزیرِ خارجہ یائر لپیڈ سے ملاقات کی تھی۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات سے قبل سیکریٹری بلنکن نے کہا کہ ہم یوکرین پر روس کے حملے کو روکنے کے لیے اسرائیل کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔انہوں ںے اس موقعے پر یہ بھی کہا کہ جنگ سے یوکرین اور اس کے لوگوں کا بہت نقصان ہوچکا ہے۔

وزیرِ خارجہ یائر لپیڈ کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے یوکرین پر روس کی جارحیت کی مذمت کر چکا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ اسرائیل جنگ کو روکنے کی عالمی کوششوں میں شامل ہے۔ان کوششوں کا انحصار بنیادی طور پر روس اور اسرائیل کے درمیان شام میں سیکیورٹی تعاون پر ہے۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس وقت روس ایران کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے۔

اسرائیل ایران سے متعلق اپنے تحفظات کی وجہ سے اس وقت روس کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ اس لیے اسرائیلی قیادت اپنا مؤقف محتاط انداز میں پیش کر رہی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ کی جانب سے روس کی مذمت کے بارے میں خارجہ امور کے عالمی جریدے ’فارن پالیسی‘ کے لیے مشرقِ وسطیٰ امور کے صحافی نیری زلبر نے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ اسرائیلی حکام کے مطابق یوکرین جنگ پر اسرائیل کے مؤقف اور بیانات سے متعلق نفتالی بینیٹ اور لپیڈ مکمل طور پر ہم آہنگی کے ساتھ چل رہے ہیں۔

اگر اسرائیل اس بحران میں روس اور یوکرین کے درمیان کوئی تصفیہ کرانے میں کام یاب ہوجاتا ہے تو اس کے نیتجے میں بینیٹ ایک مدبر کے طور پر سامنے آئیں گے اور اسرائیل کی عالمی پوزیشن بھی بہتر ہوگی جو عام طور پربین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں سے متعلق اقدامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتا ہے۔

نیری زلبر کے مطابق اسرائیلی حکام اس بارے میں متفق ہیں کہ بینیٹ کی سفارتی کوششیں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات اور یوکرین میں موجود یہودیوں کی بڑی کمیونٹی کے تحفظ پر مرکوز ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کیا چاہتے ہیں؟

نفتالی بینیٹ نے گزشتہ برس آٹھ مختلف نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے معاہدے کے بعد سابق وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا۔وہ مذہبی تعلیمات پر کاربند ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں قسمت آزمائی کی اور کروڑوں کمائے۔

وہ اس سے پہلے اسرائیل میں بننے والی کئی حکومتوں میں کابینہ کا حصہ رہے۔ مبصرین کے مطابق وہ سیاسی طور پر کوئی کرشماتی شخصیت نہیں بن پائے ہیں اور نہ ہی انہیں بین الاقوامی سیاست کا زیادہ تجربہ ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور ان کے روسی ہم منصب صدر پوٹن کے درمیان مصالحت ان کے اعصاب کی بڑی آزمائش ہو گی۔

اسرائیل میں ان کے مخالفین بینیٹ کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک نفتالی بینیٹ کا اقتدار میں آنے کا طریقہ درست نہیں تھا۔ اس کے علاوہ حالیہ مہینوں میں رائے عامہ میں بھی ان کی حمایت زیادہ نہیں رہی۔

یوکرین پر حملے کے بعد اسرائیل کے مغربی اتحادیوں نے روس کے خلاف سخت ردِ عمل ظاہر کیا اور اس پر پابندیاں بھی عائد کیں۔ جب کہ نفتالی بینٹ نے اس سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

بینیٹ نے اگرچہ متعدد بار یوکرین کے عوام کے لیے حمایت کا اظہار کیا البتہ روسی جارحیت کی براہِ راست مذمت سے گریز کرتے رہے ہیں۔

ایک جانب مغربی ممالک روس کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کر رہے ہیں جب کہ بینیٹ نے پوٹن اور زیلنسکی دونوں ہی سے اپنے رابطے بحال رکھے ہوئے ہیں۔ مبینہ طور پر ان دونوں رہنماؤں نے انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔ وہ مغرب کے پہلے اتحادی رہنما تھے جنھوں نے یوکرین پر حملے کے بعد ماسکو کا دورہ کیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس انتہائی اہمیت کے حامل عالمی تنازع میں نفتالی بینیٹ کا اس طرح کردار ادا کرنا ان کے سیاسی کریئر میں ایک نئی روح پھونک دے گا۔

سفارتی چیلنجز

اسرائیل دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے عملی سطح پر روس اور یوکرین سے یکساں تعلقات ہیں۔ اسرائیل یوکرین کو 100 ٹن سے زیادہ امدادی اشیا فراہم کرچکا ہے اور وہاں ایک فیلڈ اسپتال قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین میں دو لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں جن میں سے سینکڑوں اسرائیل جا چکے ہیں اور مزید کی نقل مکانی متوقع ہے۔

روس کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت اسٹریٹجک ہے۔ شام میں اسرائیل سیکیورٹی میں تعاون کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے۔ یہاں اسرائیلی طیارے مبینہ طور پر اپنے مخالف عناصر کے ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس کے علاوہ روس ان عالمی قوتوں میں شامل ہے جو ویانا میں ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات میں شامل ہے۔

اسرائیل ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مخالفت کرتا ہے۔ اس معاملے پر اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ جوہری معاہدہ ایران کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔ ماضی میں اسرائیل روس کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق اپنی اس مخالفت پر بات کرتا رہا ہے۔

ثالثی کے لیے اسرائیل کو غیر جانب دار رہنا ہوگا۔ اس کے لیے اسے یوکرین میں روس کی کارروائیوں میں شدت کے باوجود مغرب کے مؤقف سے دوری اختیار کرنا ہو گی۔ کوئی ایک غلط قدم پوٹن کے ساتھ اس کے تعلقات کو خراب کر سکتا ہے۔

’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اگر یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں تو اسے یہ معنی پہنائے جائیں گے کہ پوٹن نے بینیٹ کو اپنی چالوں سے ڈھیر کر دیا اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم کو بحران کی سنگینی کا باعث بننے کے الزام کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیکن یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اسرائیل مغرب کا واحد اتحادی ہے جو ان کے واضح اور سخت مؤقف کے باوجود ماسکو سے رابطے میں ہے اور یہی اسے مغربی دنیا اور روس کے درمیان رابطے کا واحد مشترکہ سفارتی ذریعہ بناتا ہے۔ اپنی اس حیثیت کی وجہ سے بھی اسرائیل کو دباؤ کا سامنا ہوگا۔

امکانات کیا ہیں؟

روس سے واپسی پر اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے اپنی کابینہ کو بتایا تھا کہ چاہے کامیابی کے امکانات محدود ہی کیوں نہ ہوں، ان کے نزدیک اس بحران کے حل میں کردار ادا کرنا اسرائیل کی اخلاقی ذمے داری ہے۔

اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کی سابق عہدے دار اور روس پر کتاب کی مصنف ویرا مچلن شیپر کا کہنا ہے کہ یہ احساس پایا جاتا ہے کہ جب پوٹن سے کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تو اسرائیل کے آگے بڑھنے سے کوئی امکان پیدا ہو گا کیوں کہ اسرائیل فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔

تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ اسرائیل کے اچھے تعلقات اپنی جگہ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اسرائیل کو وہ تمام سفارتی اثر و رسوخ حاصل ہو جو اس پیچیدہ بحران میں مصالحت کے لیے درکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ فرانس اور ترکی جیسے بڑے بین الاقوامی کرداروں کی کوششیں بھی اس سلسلے میں بار آور ثابت نہیں ہو پائی ہیں۔

اسرائیلی مبصر براک ریوڈ کا کہنا ہے کہ نفتالی بینٹ نے یہ کوششیں شروع کرکے مختصر وقت میں اپنی بین الاقوامی پوزیشن بہتر کر لی ہے اور اسرائیل میں بھی سیاسی پوائنٹ حاصل کر لیے ہیں۔

لیکن ان کے نزدیک اسرائیلی وزیرِ اعظم یہ جانے بغیر یوکرین کے پانی میں اتر چکے ہیں کہ یہ کتنا گہرا ہے۔

(اس تحریر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ لی گئی ہے۔)



Source link