روس اولمپکس ختم ہونے سے پہلے یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے، وائٹ ہاؤس 



امریکی صدر جوبائیڈن جمعے کے روز دنیا کے رہنماوں کے ساتھ یوکرین کے معاملے پر ایسے میٰں تبادلہ خیال کر رہے ہیں جب صدر اور وزیرخارجہ انٹنی بلنکن ، دونوں راہنماوں نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یوکرین سے باہر نکل آئیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی اور روسی فوج کے مابین کسی بڑی جھڑپ کا امکان ہو سکتا ہے۔ادھر امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ روس اولمپکس مقابلوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ روس ”اولمپکس کے دوران” ہی یوکرین پر حملے کا آغاز کر سکتا ہے۔

جمعے کے روز اخباری بریفنگ کے دوران سلیوان نے کہا کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ کافی فوج تعینات کر رکھی ہے اور وہ بڑا فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حملے کی صورت میں روس یوکرین کےکافی علاقے پر قابض ہوجائے گا، جس میں دارالحکومت کئیف بھی شامل ہے۔

سلیوان نے یوکرین میں موجود امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر یوکرین سے نکل جائیں۔ انھوں نے کہا کہ فضائی کارروائی کے نتیجے میں روسی جارحیت شروع ہوسکتی ہے، جس کے بعد ملک سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔

اس سے پہلے امریکی ٹیلی ویژن چینل، ‘این بی سی نیوز’ کے ساتھ جمعرات کی رات ایک انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہ بھی ا کہ ”امریکی شہریوں کو باہر نکل آنا چاہیے، فوری طور پرباہر نکل آئیں”۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن یہی انتباہ جاری کر چکے ہیں، جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کرچکا ہے۔

بائیڈن کے الفاظ میں، ”ہمارا واسطہ ایسی فوج سے ہے جو دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک ہے۔ یہ انتہائی مختلف صورت حال ہے اور حالات یکدم خراب ہو سکتے ہیں”

امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یوکرین سے نکل جائیں، جب تک کہ مسافر طیاروں کی پرواز جاری ہے۔

پنٹاگان کی بریفنگ:

وائس آف امریکہ کے لیے کارلا باب کی رپورٹ کے مطابق پنٹاگان نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے فورٹ بریگ کے ایئربورن انفنٹری بریگیڈ کے لڑاکا دستے میں سے تین ہزار فوجی پولینڈ روانہ کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ یہ فوجی آئندہ چند دنوں کے اندرپولینڈ روانہ ہوجائیں گے اور متوقع طور پراگلے ہفتے تک تعینات کر دیے جائیں گے۔

اس سے قبل دو فروری کو ایک ہزار سات سو امریکی فوجی پولینڈ بھجوائے گئے تھے۔

صدر بائیڈن کے عالمی راہنماوں سے رابطے:

وائٹ ہاوس کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن دنیا کے رہنماوں سے بات کر رہے ہیں۔ ان میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، رومانیہ، برطانیہ، نیٹو، یورپی یونین اور یوریپین کونسل کے رہنما شامل ہیں۔ ان رابطوں میں یوکرین کے نزدیک روسی فوجوں کی تعداد میں مسلسل اضافے اور تنازعے پر سفارتکار ی اور دفاع، دونوں راستوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ امریکی فوج یوکرین نہیں بھیجیں گے، اس صورت میں بھی کہ روسی حملے کے نتیجے میں امریکی شہریوں کو نکالنے کی ضرورت پیش آئے۔ انھوں نے کہا کہ ”جب امریکی اور روسی ایک دوسرے پر فائرکھولیں تو یہ عالمی جنگ کا سماں ہوگا۔ ہمارا سابقہ اب بہت ہی مختلف دنیا سے ہے”۔

امریکہ نے یوکرین پرروس کے حملے کے خدشے کے پیشِ نظر وہاں بسنے والے اپنے شہریوں کو فوراً یوکرین سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے جمعرات کو جاری نئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے خدشے کے باعث امریکی یوکرین کا سفر نہ کریں اور وہ امریکی شہری جو پہلے سے وہاں موجود ہیں وہ کمرشل یا پرائیوٹ ذریعے سے فوری انخلا کریں۔

ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی شہری جو کسی بھی وجہ سے یوکرین سے نہیں نکل سکتے وہ روس کے حملے کی صورت میں احتیاط برتیں۔

امریکہ کی جانب سے مسلسل ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی یہ ایڈوائزری ایسے موقع پر جاری ہوئی ہے جب روس نے جمعرات کو ہی بیلاروس میں 10 روزہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ ماسکو نے دفاعی اہمیت کے حامل بحرِ اسود کی بندرگاہ پر اپنے چھ بحری جہاز بھی لنگر انداز کر دیے ہیں۔

روس کی اس کارروائی کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔



Source link