روس نواز باغیوں کا حملہ، تنازع میں پہلی بار یوکرین کے دو فوجی ہلاک



یوکرین کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ روس کے حمایت یافتہ باغیوں کے حملے میں ملک کے مشرق میں دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو ئے ہیں جس کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئی ہیں کہ روس کبھی بھی فوجی کارروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔

یوکرین کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ہفتے کو مختلف مقامات پر جنگ بندی کی 70 خلاف ورزیاں نوٹ کیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 66 خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

عرب نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق فوج کا مزید کہنا تھا کہ باغیوں نے بھاری اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے فرنٹ لائن کے ساتھ ساتھ 30 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جو کہ طویل عرصے سے کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

یوکرین کے حکام کا کہنا تھا کہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی میں فوجیوں کی یہ پہلی اموات ہیں۔

مبصرین کے مطابق مشرقی یوکرین میں 1500 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں جو کہ رواں سال میں سب سے زیادہ ہیں۔

روسی صدر کی فوج کی مشق کی نگرانی

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ہفتے کو فوج کی مشقوں کی نگرانی کی جب کہ دوسری جانب یوکرین کے مشرقی حصے میں روس کی نقل و حمل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والی مشقیں تیاریوں کی جانچ پڑتال کے لیے پہلے سے طے شدہ تھیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ ان مشقوں میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی آبدوزوں کے ذریعے لانچنگ کی مشق شامل تھی جن کی نگرانی صدر پوٹن نے کی جب کہ اس موقع پر بیلا روس کے صدر بھی موجود تھے۔

فرانس کے صدر کی آخری کوشش

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے بات چیت میں تنازع کے حل کے لیے آخری ممکنہ کوشش کریں گے۔

فرانس کے ایوانِ صدر کے مطابق رواں ماہ سات فروری کو میخواں کی پوٹن کے ساتھ ماسکو میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد اب اتوار کو دونوں رہنما یوکرین کے تنازع سے متعلق بات چیت کریں گے۔

اختتامِ ہفتہ پر یوکرین کے سرحدی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی تیز کر دی ہے۔

دوسری طرف روس کے حکام کا اصرار ہے کہ اس کا در اندازی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ ہفتے کو میزائل تجربے سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

نیٹو کے چیف اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ ہر عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف بھرپور حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

مغربی اتحادی روس کی خوشامد بند کریں’

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنے مغربی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ماسکو کو خوش کرنے کی پالیسی بند کر دیں۔

فرانسیسی ایوان صدر کے مطابق یوکرین کے صدر زیلنسکی کا میخواں سے ہفتے کو ہونی والی گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ روس کی اشتعال انگیزی پر جواب نہیں دیں گے۔

تاہم انہوں نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کی جانے والی تقریر میں ماسکو کے لیے دیگر اتحادی ممالک کی خوشامدی پالیسی کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین گزشتہ آٹھ برس سے دنیا کی ایک بڑی فوج کو روکے ہوئے ہے۔

انہوں نے یوکرین کے لیے امریکہ کی قیادت والے نیٹو فوجی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے واضح قابلِ عمل وقت کا مطالبہ کیا جس کے بارے میں ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ اس کی سلامتی کے لیے آخری حد ہو گی۔

یوکرینی صدر، روسی صدر سے ملاقات کے خواہاں

ادھر یوکرین کے صدر زیلنسکی کا ہفتے کو کہنا تھا کہ وہ روسی صدر پوٹن سے ملنا چاہتے ہیں تا کہ اس کشیدہ صورت حال کا حل نکالا جا سکے۔

میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ روسی صدر کیا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔

امریکی صدر کی سیکیورٹی ٹیم سے ملاقات

امریکی صدر جو بائیڈن کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں روس، یوکرین پر حملہ کرے گا۔ اس بحران پر وہ اتوار کو نیشنل سیکیورٹی کونسل سے غیر روایتی ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا ہفتے کو کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کو نائب صدر کاملا ہیرس کی میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ہیرس ہفتے کو متعدد مغربی رہنماؤں سے ملی تھیں جن میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل ، صدر یورپین کمیشن، جرمن چانسلر اور یوکرین کے صدر شامل تھے۔

امریکی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ ماسکو، مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں تشدد سے متعلق غلط معلومات پھیلا کر جارحیت کا بہانہ ڈھونڈنے کے لیے کوشاں ہے۔

بھارت کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدائت

بھارتی حکومت نے یوکرین میں مقیم اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر ان کا یوکرین میں قیام انتہائی ضروری نہیں ہے تو وہ واپس بھارت آ جائیں۔

یوکرین میں قائم بھارتی سفارت خانے کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ دوسری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہری ممکنہ روسی حملے کے سبب بھارت واپسی کے لیے دستیاب کمرشل یا چارٹر فلائٹس دیکھیں۔

اس سے قبل بھارتی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ پہلی ایڈوائزری میں طلبہ کو یوکرین جلد سے جلد چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یوکرین میں پیدا شدہ صورت حال کے سبب آسٹریا، فرانس اور جرمنی نے بھی ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین چھوڑ دیں۔

مختلف بین الاقوامی ایئرلائنز نے یوکرین کے دارالحکومت کیف جانے والی پروازیں بھی منسوخ کر دی ہیں۔



Source link