روس کا یوکرین پر حملہ:اسٹاک منڈیوں میں مندی، تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی



یوکرین میں روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ٹوکیو اور سول کی حصص مارکیٹ میں دو فیصد جب کہ ہانگ کانگ اور سڈنی میں تین فی صد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ جب کہ روس کی جانب سے تیل کی فراہمی میں ممکنہ تعطل کے پیشِ نظر فی بیرل تیل کی قیمتوں میں چار ڈالر تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روسی کرنسی ربل کی قیمت میں پانچ فی صد تک کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں عام شہریوں کا تحفظ ضروری ہے۔

روس امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ماسکو کی سیکیورٹی ضمانتوں کی پیشکش اور یوکرین کی نیٹو میں شمولیت روکنے کے روسی مطالبے کو نظرانداز کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

البتہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے روس کے یوکرین پر حملے کو ”بلااشتعال اور غیر منصفانہ” قرار دیا ہے۔

پوٹن کے اس اعلان کے بعد ٹوکیو کی نکی 225 مارکیٹ دو فیصد، ہانگ کانگ کی ہینک سینگ مارکیٹ میں 2.8 فی صد اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 0.9 فی صد گراوٹ رپورٹ ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ روسی حملے اور مغربی پابندیوں سے یورپی معیشتوں کے مقابلے میں ایشیائی معیشتوں کو کم خطرہ ہے۔لیکن روس کی جانب سے سپلائی میں خلل کی صورت میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ روس تیل پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔

ادھر سول کی اسٹاک مارکیٹ بھی 2.6 فی صد جب کہ سڈنی کی مارکیٹ میں 3.1 فی صد کی کمی رپورٹ ہوئی، اسی طرح نیوزی لینڈ کی مارکیٹ میں 2.8 فی صد اور جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک میں بھی مندی دیکھی گئی۔

روسی حملے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق خام تیل کی قیمت میں 3.5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور ستمبر 2014 کے بعد پہلی مرتبہ یہ 100 ڈالر فی بیرل کو عبور کرگئی ہے۔

یوکرین پر حملے کے اثرات سونے کی مارکیٹ پر بھی دکھائی دیے ہیں اور سونے کی قیمت میں ایک اعشاریہ سات فی صد اضافے کے بعد یہ جنوری 2021 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ اور ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔



Source link