روس کے حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان



روس کی افواج نے جمعرات کو یوکرین پر حملہ کرتے ہوئے دارالحکومت کیف سمیت دیگر شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔روسی حملے کے بعد یوکرین کے صدر نے ملک میں مارشل نافذ کر دیا ہے۔

صدر پوٹن نے جمعرات کو مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں یوکرین میں ملٹری آپریشن کا اعلان کیا اور دیگر ملکوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اس معاملے میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

یوکرین کے علاقے ڈونباس پر فوج کی چڑھائی کا اعلان کیا۔ اسی اثنا میں دارالحکومت کیف, خرکیف اور اڈیسہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

روسی صدر نے یوکرین کی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ہتھیار پھینک دے اور گھروں کو واپس لوٹ جائے۔ ان کے بقول روس یوکرین پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن مشرقی یوکرین میں سویلین آبادی کے تحفظ کے لیے یہ حملہ ضروری تھا۔

پوٹن ےالزام عائد کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ماسکو کی جانب سے پیش کردہ سیکیورٹی یقین دہانی اور یوکرین کو نیٹو اتحاد سے دور رکھنے کے روسی مطالبے کو نظر انداز کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے روسی صدر کے اقدام کو یوکرین پر اشتعال انگیز اور غیر منصفانہ حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری روس کا احتساب کرے گی۔

خبر رساں ادارے’ ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق جس وقت صدر پوٹن ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کر رہے تھے اس وقت یوکرین کے علاقے خرکیف اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

پوٹن کے یوکرین پر حملے کے اعلان سے قبل کریملن کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں آباد باغیوں نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں یوکرین کی جارحیت سے بچایا جائے اور ان کی عسکری مدد کی جائے۔

یوکرین کے وزیرِ خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا ہے اور یوکرین کے پرامن شہر حملے کی زد میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جارحیت کی جنگ ہے اور یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور یہ جنگ جیتے گا۔

یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادی پوٹن کو روکیں اور وقت آگیا ہے کہ دنیا عملی اقدام کرے۔

‘یوکرین کی حکومت اور عوام امن چاہتے ہیں’

روس نے یہ جواز ایسے موقع پر پیش کیا ہے جب امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ روس جنگ کے لیے کوئی بہانہ تراش رہا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی نے روس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کبھی بھی ماسکو کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنا۔ ان کے بقول روس کے حملے کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کی حکومت اور عوام امن چاہتے ہیں۔ اگر ہم پر حملہ کیا گیا اور ہم سے آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی تو اس صورت میں ہم اپنا دفاع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ ہم پر حملہ کریں گے تو آپ اپنے سامنے ہماری کمر کے بجائے چہرے دیکھیں گے۔

زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے بدھ کی شب روسی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن کریملن کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔



Source link