سن 2008ء کے بعد سے اب تک تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر



تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں صارفین کے لیے مشکل کا باعث ہیں، وہیں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے لیے خوشی کا پیغام بنتی ہیں۔

افریقی توانائی چیمبر نے وائس آف امریکہ کو بتا یا کہ تیل پیدا کرنے والے کچھ افریقی ملکوں کی حکومتی آمدنی میں یقیناً اہم اضافہ ہو گا ،کیونکہ امریکہ کی جانب سے روسی تیل کی در آمدات پر پابندی کے باعث،سن 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

جوہانسبرگ میں قائم افریقی توانائی چیمبر کے سینئیر نائب صدر ورنر آیوکیگبا کا کہنا ہے کہ نائیجیریا، انگولا ، لیبیا، جنوبی سوڈان ، گیبون ، کانگو اور گھانا کے حکومتی آمدنی میں حد درجہ اضافہ ہو گا۔تاہم ،ان کا کہنا تھا کہ باوجودیکہ ان افریقی معیشتوں کو یہ دم بھر کےلیے معاشی سہارا دے گا ،لیکن بر اعظم کے زیادہ تر ملک جو تیل کی کشید کردہ مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ،ان کے اخراجات میں بیش بہا اضافہ ہو جائے گا۔

آیو کیبگا کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ جیسے ملک جو تیل پیدا نہیں کرتے، لیکن ان بڑی معیشتوں میں شامل ہیں جو خام تیل درآمد کرتے ہیں ، تاکہ اپنی صنعتوں کے لیے اسے کشید کر سکیں ، ان کے درآمدی اخراجات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔

لاگوس، نائیجیریا میں رہنے والے ایک پیٹرولیم انجینئیر ، بالا زکّکا کہتے ہیں کہ خام تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور بر اعظم میں اخراجات زندگی میں بے انتہا اضافے، افراط زر میں خطرے کی علامت ہے۔زکّکا کا کہنا تھا کہ نائیجیریا میں ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ مقرر کی گئی ہیں۔ ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت چار سو پچاس نائیجیرین نائیرہ تک پہنچ گئی ہے ، جو ایک ڈالر آٹھ سینٹ کے برابر ہے۔اور یہ وہ تکلیف دہ اذیت ہے جو نائیجیریا کے عوام کو برداشت کرنا پڑے گی۔

تجزیہ کار اس بات پر ناخوش تھا کہ افریقہ کی سب سے زیادہ گنجان آبادی والی قوم جس میں بیس کروڑ لوگ بستے ہیں تیل کی کشید کردہ مصنوعات کی درآمد پر انحصار کرتی ہے، جبکہ ان کے پاس مقامی طور پر تیل کو کشید کرنے کی صلاحیت موجود ہے جہاں وہ ملکی ضروریات کےلیے گیس ، ڈیزل اور مٹی کا تیل حاصل کر سکتے ہیں۔

نائیجیریا ،افریقہ میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ور وہ بر اعظم میں سب سے زیادہ خام تیل بر آمد کرتا ہے۔

اسٹیسٹا کے سن دوہزر بیس کے اعداد وشمار کے مطابق ، نائیجیریا ،افریقہ میں تیل برآمد کرنے والے ملکوں میں سب سے آگے تھا۔اور اس سال میں اس کی روزانہ برآمد تقریباًپانچ اعشاریہ چار ملین تھی۔

اسی اثنا میں افریقی توانائی چیمبر کے آیوکگبا کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ جانے کے باعث بہت سے افریقی ملک ممکنہ طور پر تیل اور گیس کے نئے ذخائر تلاش کریں گے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتا یا کہ افریقی ساحل پر مزید تیل اور گیس کے حصول کے لیے کھدائی جاری ہے،مثال کے طور پر خلیج گنی میں ۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ نیمیبیا جیسی جگہوں پر اس وقت کھدائی جاری ہے ، جہاں ٹوٹال اور شیل کمپنیوں نے اہم دریافتیں کی ہیں۔



Source link