شمالی کوریا کے جوہری ری ایکٹر کا دوبارہ فعال ہونا تشویشناک ہے، عالمی جوہری ادارہ



جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے نے شمالی کوریا کی جانب سے اپنی جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے ایک جوہری ری ایکٹر کو، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم پیدا کرنے کا کام کرتا ہے، دوبارہ فعال کیاگیا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی کی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ پانچ میگاواٹ طاقت کے جوہری ری ایکٹر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہتھیاروں کے لیے قابل استعمال پلوٹونیم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس ری ایکٹر میں جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی علامات پہلی بار 2018 میں دیکھی گئی تھیں۔

ادارے کی رپورٹ میں یونگی بیون کے ری ایکٹر کے بارے میں کہا گیا ہےکہ 2021 کی جولائی کے آخر سے اس بات کے اشارے مل رہے ہیں، جن میں ری ایکٹر کو سرد کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو ضائع کرنے کا عمل بھی شامل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نیوکلئیر ری ایکٹر میں آپریشن دوبارہ سے شروع کر دیا گیا ہے۔ یونگی بیون کا ری ایکٹر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی جوہری تنصیبات کا مرکزی حصہ ہے۔

2009 میں پیانگ یانگ کی جانب سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ملک سے نکالنے کے بعد آئی اے ای اے کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ شمالی کوریا نے اس کے بعد جلد ہی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور اس نے اپنا آخری جوہری تجربہ 2017 میں کیا تھا۔

اس وقت آئی اے ای اے کے پاس سیٹلائیٹ کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی نگرانی کا طریقہ کار موجود ہے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے 38 نارتھ پراجیکٹ، جس کا کام شمالی کوریا کی نگرانی کرنا ہے کی ڈائریکٹر جوینی ٹاؤن کے مطابق کمرشل سیٹلائیٹ کی جانب سے لی گئی تصاویر سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی پلانٹ سے باہر پھینکا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ری ایکٹر دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ ری ایکٹر کو اس سے پہلے بند کیوں کیا گیا تھا لیکن پانی کے ذخیرے پر پچھلے برس اس حد تک کام ہوتا رہا ہے کہ ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے والے نظام کے لیے درکار پانی کی مقدار مہیا ہوتی رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ بہت حیران کن بات ہے کہ یہ کام ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب کہ اگلے چند ہفتے بعد متوقع سیلابوں کی وجہ سے ری ایکٹر کا آپریشن متاثر ہو سکتا ہے۔

پچھلے برس 38 نارتھ پراجیکٹ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے یونگ بیون کے ری ایکٹر سے منسلک پانی پمپ کرنے والے آلات پچھلے برس اگست کے سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ ادارے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے والا نظام شدید موسم کی صورت میں متاثر ہو سکتا ہے۔

یانگ بانگ نیوکلیئر سائینٹفک ریسرچ سینٹر نے پچھلے برس کہا تھا کہ موسمی بارشوں کی وجہ سے چند علاقوں میں سیلاب آیا تھا لیکن جوہری تنصیبات کے ان سے متاثر ہونے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی۔



Source link

Leave a Reply