صدر پوٹن نے یوکرین پر کیا سوچ کر حملہ کیا ہے

یوکرین پر حملے سے قبل کے دنوں میں روسی صدر ولاد یمیر پوٹن کی ذہنی کیفیت اور ہو شمندی کے بارے میں بعض موجودہ اور سابقہ مغربی عہدیداروں نے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

ان کی نظر میں صدر پوٹن کی سوچ اور یوکرین کے بحران پر بات کرنے کے ان کے انداز میں کچھ ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو ان کے خیال میں روسی لیڈر کو زیادہ خطرناک بنارہی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پوٹن کی تقریروں میں سے ایک تقریر کو، جس میں انہوں نے یوکرین کے علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو خود مختار ریاستوں کی حیثیت سے تسلیم کیا، “عجیب و غریب اور مسخ شدہ نظریہ ” قرار دیا۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اسی تقریر کو انتہائی پریشان کن خطاب کہا ہے۔

امریکہ میں فرانس کے سابق سفیر جیرارڈ اوغارڈ ا اس بھی آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ “پوٹن کی تقریر صحیح معنوں میں دماغ کو چکرا دینے والی تھی”۔

بین الاقوامی کاروباری شخصیت بل براؤڈر کہتے ہیں کہ” انہوں نے گزشتہ دو عشروں میں پوٹن کی بہت سی تقریریں سنیں اور یہ انتہائی بد حواسی میں کی گئی تقریر تھی جو حقیقت سے بہت دور اور انتہائی خطرناک تھی”۔

پوٹن کے بارے میں اس قسم کی باتیں عام لوگوں اور نجی انٹیلیجینس کے ان اندازوں کے متضاد ہیں جن کے مطابق 69 سالہ روسی لیڈر کو بے رحم، زیرک اور خطرات مول لینے کا خواہش مند قرار دیا جاتا تھا۔

امریکی سی آئی آے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے گزشتہ فروری میں اپنے تقرر کی توثیق سے قبل قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ان کے سر کے بالوں میں سے زیادہ تر بال گزشتہ برسوں کے دوران روس میں خدمات انجام دیتے ہوئے، خاص طور پر ولادیمیر پوٹن کے روس میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے سفید ہوئے ہیں۔

پوٹن نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سابقہ روسی خفیہ پولیس ’کے جی بی‘ میں فارن انٹیلی جینس افسر کی حیثیت سے کیا اور 1990 میں لیفٹینینٹ کرنل کے عہدےسے ریٹائر ہوئے۔

پھر وہ سیاست میں آئے اور 1998 میں وہ روس کی اندرون ملک سیکیورٹی سروس ’ایف ایس بی‘ کے سربراہ بنے۔

اس کے دو سال بعد پوٹن صدر منتخب ہو گئے اور اس وقت سے اب تک سوائے اس چار سال کی مدت کے جب وہ 2008 سے 2012 تک ملک کے ؤزیر اعظم تھے، مسلسل صدر رہے ہیں۔

سی آئی اے کے ایک سابق چیف آف اسٹیشن ڈینیل ہاف مین کہتے ہیں کہ “ولادیمیر پوٹن کے جی بی کے ایک بے رحم کار گزار کے علاوہ اور بہت کچھ بھی ہیں جو وہ ہمیشہ سے رہے ہیں”۔

ڈینیئل ہاف مین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پوٹن نے اب تک کوئی غلطی کی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے چیچنیا، جارجیا، کرائمیا اور شام میں روس کی کامیاب فوجی مہم جوئیوں کی جانب توجہ دلائی۔

ہاف مین اور دوسرے سابقہ امریکی انٹیلیجینس عہدیدار باور کرتے ہیں کہ ان فوجی مہم جوئیوں کے نتائج اور دنیا کے موجودہ حالات کے پیش نظر پوٹن کو اپنی دیرینہ خواہش کو حقیقت میں بدلنے کا ایک موقع نظر آیا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن مشرقی یوکرین کے خلاف فوجی ایکشن شروع کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔24 فروری 2022

روسی صدر ولادی میر پوتن مشرقی یوکرین کے خلاف فوجی ایکشن شروع کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔24 فروری 2022

ایک اور سابق انٹیلیجینس عہدیدار مارک کیلٹن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پوٹن نے جو وہ چاہتے ہیں اسے چھپایا نہیں، بس تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے پاس اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے یعنی یوکرین کے ان حصوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جن پر وہ 2014 میں قبضہ نہیں کر سکے تھے”۔

سابقہ انٹیلیجینس عہدیدار توجہ دلاتے ہیں کِہ شاید پوٹن سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے اندر سیاسی اختلافات کے باعث وہ کمزور ہوا ہے اور افغانستان سے واپسی کے سبب واشنگٹن اور اس کے مغربی اتحادی، دوسروں کے جھگڑوں سے نمٹنے کی طرف مائل نہیں ہیں۔

اور پھر چین ہے جو پرانا حریف ہے، جس کے متعلق کیلٹن کا کہنا ہے کہ وہ “مشترکہ دشمن امریکہ کی مخالفت میں” روس کے ساتھ متحد ہو گیا ہے۔

بعض روسی مبصرین کے بقول مختلف رجحانات کے ممکنہ طور پر یکجا ہو جانےسے بھی پوٹن کو اضافی اعتماد حاصل ہوا ہے۔

جارجیا کے صدر اور قومی سلامتی کونسل کی سابقہ مشیر مولی میکیو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پوٹن جنہیں میں نے دیکھا، بالکل وہی تھے جیسی کہ مجھے توقع تھی۔ وہ اپنے لیے اقتدار چاہتے ہیں۔

“وہ طاقت اور میراث چاہتے ہیں، اس وژن کے لیے جو ان کا روس کے بارے میں۔ “

وہ مزید کہتی ہیں کہ “پوٹن کو یقین ہے کہ انہیں روکنے کا کہیں کوئی عزم نہیں ہے”۔

تاہم ہر ایک اس بات پر قائل نہیں ہے کہ جس پوٹن نے حالیہ دنوں میں ٹی وی پر تقریر کی وہ وہی پرانا پوٹن تھا۔

روسی امور کے دوسرے ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کِہ تبدیلی تو دیکھنے میں آئی ہے۔

ایک گاڑی پر لٹکے پلے کارڈ پر پوتن کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ اور روس کی سالمیت اور تحفظ کے لیے اس کے ساتھ ہیں اور آپ؟؟؟

ایک گاڑی پر لٹکے پلے کارڈ پر پوتن کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ اور روس کی سالمیت اور تحفظ کے لیے اس کے ساتھ ہیں اور آپ؟؟؟

یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سیوا گنٹسکی کا کہنا ہے کہ” اس بار جو بات مختلف تھی وہ ان کا لب و لہجہ اور غصہ تھا جسے وہ بہ مشکل چھپا پا رہے تھے”۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کِہ “یہ تقریر کسی کو متاثر کرنے کے لیے نہیں بلکہ دھمکی دینے کے لیے تھی۔ وہ خطرناک نظر آنے کے لیے اپنے انداز اور چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے”۔

بعض سابقہ انٹیلیجینس عہدیداروں کے مطابق ایک امکان یہ بھی ہے کہ ساری منصوبہ بندی اور ان کے اعتماد کے پیچھے وہ مایوسی ہو جو وہ واقعی محسوس کر رہے ہوں۔

سی آئی اے کے ایک سابق سینئیر عہدیدار پال پلر کا، جو اب جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں کہنا ہے کہ اگرچہ بحران پوٹن نے شروع کیا۔ لیکن مغرب کی جانب سےایسا کچھ ردعمل نہیں آیا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ اور یہی بات کسی بھی شخص کو اپنے موقف پت قائم رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے



Source link