فلسطینی۔امریکی صحافی کےجنازے میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں

وائٹ ہاؤس اور امریکہ کے وزیرخارجہ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کا تابوت لےجانے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی پولیس کے ہلہ بولنے کے مناظر پریشان کن ہیں۔

دس برس سے مشرقِ وسطیٰ اور فلسطینیوں کے امور کی رپورٹر فلسطینی۔ امریکی،شیریں ابو عاقلہ 11 مئی کو مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی کاروائی کی رپورٹنگ کرتے ہوئے گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی عہدیدار ابو عاقلہ کے جنازے کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی عہدیداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ انٹنی بلنکن نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں شیریں ابو عاقلہ کے جنازے میں پیش آنے والی صورتحال کو پریشان کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہر خاندان اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو باوقار اور بلا روک ٹوک، اچھے انداز میں سپرد خاک کر سکے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تصاویر دیکھ کر انتہائی پریشان ہوئی ہیں جبکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ ششدر رہ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دوروز سے فلسطینی امریکی صحافی کے لیے ہزاروں فلسطینیوں کے اظہارِ ہمدردی اور جمعے کے روز شیریں ابو عاقلہ کے جنازے کے مناظر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے لیے بہت جذباتی اوراداس کر دینے والے تھے۔

انہیں سینٹ جوزف ہسپتال میں جمع فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں پر انتہائی پریشانی ہوئی ہے۔ انہوں نے آزادئِ اظہار اور پر امن اجتماع سمیت تمام انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا۔

قطر اور الجزیرہ نیٹ ورک نے بھی پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔

جمعے کے روزاسرائیلی فورسز نے، مشرقی یروشلم کے ہسپتال کے احاطے میں، جنازے میں شریک فلسطینیوں کو مقتول صحافی شیریں ابو عاقلہ کا تابوت لیجانے سے روکنے کی کوشش کی۔ اور ان پر لاٹھی چارج کیا۔

مشرقی یروشلم کے اسپتال کے احاطے میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے اس اقدام سے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور تابوت گرتے گرتے بچا۔ رائٹرز کے مطابق اسرایئلی پولیس چاہتی تھی کہ تدفین کے لیے میت کو پیدل کے بجائے بذریعہ گاڑی لے جایا جائے۔

جنازے میں شریک افراد فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس نے سن کر دینے والے گرینیڈ بھی پھینکے اور لوگوں کو تابوت واپس عمارت کے اندر لے جانے پر مجبور کیا۔

ایک موقعے پر تابوت بالکل گرنے کے قریب تھا مگر پھر لوگوں نے اسے سنبھال لیا۔

چند ہی منٹ بعد ابوعاقلہ کا تابوت ایک گاڑی میں رکھ کر یر وشلم کے گرجا گھر پہنچایا گیا جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

Journalists hold placards depicting Al Jazeera reporter Sireen Abu Akleh during a protest in Mogadishu

Journalists hold placards depicting Al Jazeera reporter Sireen Abu Akleh during a protest in Mogadishu

جمعے کو اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ فلسطینی مظاہرین کے ایک گروپ نے ، ان کے بقول، ہسپتال کے احاطے میں پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کو مجبوراً کارروائی کرنا پڑی۔

دس برس سے مشرقِ وسطیٰ اور فلسطینیوں کے امور کی رپورٹر فلسطینی۔ امریکی،شیریں ابو عاقلہ 11 مئی کو مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی کاروائی کی رپورٹنگ کرتے ہوئے گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھیں۔

فلسطینیوں نے ابو عاقلہ کی موت کو اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل قرار دیا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے ابتداء میں کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ گولی فلسطینیوں نے چلائی ہو تاہم عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی فائرنگ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔

PALESTINIANS-ISRAEL/ JOURNALIST KILLED

PALESTINIANS-ISRAEL/ JOURNALIST KILLED

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جمعے کو جنین کے نواح میں جہاں ابو عاقلہ ہلاک ہوئی تھیں، ریڈز کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ اور فلسطینین وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 13 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اسی دوران فلسطینی اسلامی جہاد نامی گروپ نے جنین میں فائرنگ کے دوران ایک اسرائیلی پولیس افسر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے کہ یروشلم اور جنین کے واقعات فریقین کو سنگین تنازعے میں دھکیل سکتے ہیں۔

( اس خبر میں معلومات رائٹرز سے لی گئی ہیں)



Source link