فوج اور مسلح افراد میں جھڑپ، فوجی حکومت کا چار دہشتگرد مارنے کا دعوی

میانمار کی فوجی حکومت نے کہا ہے کہ اس سال حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان منڈالے شہر کی لڑائی میں چار مظاہرین مارے گئے ہیں۔

منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے میں جب سکیورٹی فورسز نے چھاپہ مارا تو انہیں چھوٹے آتشیں اسلحے اور گرینیڈ کے ساتھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

فوجی حکومت نے ہلاک ہونے والے چاروں افراد کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس تصادم میں چھاپہ مار ٹیم کے 20 ارکان بھی زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے ان 8 افراد کو حراست میں لے لیا جن کے پاس گھروں میں بنائے گئے دستی بم، بارودی سرنگیں اور چھوٹا اسلحہ تھا۔

یاد رہے کہ یکم فروری کو منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اب تک فوجی حکومت روزانہ ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں ناکام رہی ہے۔ تختہ الٹنے کے بعد جمہوری رہنما آنگ ساں سوچی اور ان کے رفقا کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

منگل کو مینڈالے شہر میں ہونے والے واقع کی ایک تصویر کریڈٹ اسکرین شاٹ رائٹرز

منگل کو مینڈالے شہر میں ہونے والے واقع کی ایک تصویر کریڈٹ اسکرین شاٹ رائٹرز

بہت سے مظاہرین نے اپنے تحفظ کے لیے جنگلوں کا رخ کر لیا ہے جہاں انہوں نے باغی عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر فورس بنالی ہے۔ یہ فورس میانمار کی فوج پر حملے کرتی ہے۔

ایک آزاد مانیٹرنگ گروپ کے مطابق میانمار میں اب تک 860 عام شہری مارے جا چکے ہیں اور چھ ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فوجی حکمرانوں کا الزام ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی جس کی وجہ سے فوج نے سول حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

دوسری طرف سویلین حکومت نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات مسترد کر دیا تھا۔



Source link

Leave a Reply