مشرق وسطیٰ میں امن، عوامی شخصیات کی جانب سے ‘دو ریاستی کنفیڈریشن’ کی تجویز

اسرائیلی اور فلسطینی عوامی شخصیات نے دو ریاستی کنفیڈریشن کی ایک نئی تجویز دی ہے جس سےانھیں توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کی امن کوششوں میں ایک دہائی کےتعطل کے بعد آگے بڑھنے کا راستہ ملے گا۔

اس منصوبے میں متعدد متنازعہ تجاویز شامل ہیں اور یہ واضح نہیں آیا اسے دونوں طرف کے رہنماؤں کی کوئی حمایت حاصل ہو سکے گی۔اس تجویز کو اس ہفتے ایک سینئر امریکی اہلکار اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس سے ہو سکتا ہے کہ اس تنازعے پر ایک نئی بحث چھڑ جائے۔

اس منصوبے میں مغربی کنارے،غزہ اور مشرقی یروشلم کےان بیشتر علاقوں میں فلسطین کی ایک آزاد ریاست کا منصوبہ پیش کیا گیا ہےجن علاقوں پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ تجویز کے مطابق، اسرائیل اور فلسطین کی الگ الگ حکومتیں ہوں گی لیکن سیکورٹی، بنیادی ڈھانچے اور دونوں آبادیوں کو متاثر کرنے والے دیگر امور پر انتہائی اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی ہو گی۔ یہ منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی آباد کاروں کو وہاں رہنے کی اجازت دے گا۔

وہ یہودی آبادکار جو مغربی کنارے کے انتہائی اندرون علاقوں میں رہ رہے ہیں انہیں اختیا ر دیا جائیگا کہ وہ اپنی رہائش تبدیل کر لیں یا ریاست فلسطین کے مستقل رہائشی بن جائیں ۔اتنی ہی تعداد میں فلسطینی ،جو انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی تخلیق کے بعد سے جنگ زدہ ماحول میں پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں ،انہیں اجازت ہو گی کہ وہ فلسطینی شہری کی حیثیت سے اسرائیل منتقل ہو جائیں اور اسرائیل کی مستقل شہریت اختیار کر لیں۔

امریکی اخبارات سے: فلسطین، اسرائیل امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور

امریکی اخبارات سے: فلسطین، اسرائیل امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور

یہ اقدام زیادہ تر جنیوا معاہدے پر مبنی ہے۔ یہ ایک مفصل اور جامع امن منصوبہ ہے جو 2003 میں ممتاز اسرائیلیوں اور فلسطینیوں نے بشمول سابق حکام تیار کیا تھا ۔ تقریباً 100 صفحات پر مشتمل کنفیڈریشن پلان میں بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے نئی تفصیلی سفارشات شامل ہیں۔

ایک سابق اسرائیلی سینیئر عہدیدار اور امن مذاکرات کار یوسی بیلن نے جو جنیوا امن تجویز کے شریک بانی تھے کہاہے کہ،یہودی آباد کاروں کے بڑے پیمانے پر انخلا سے یہ منصوبہ انکے لیے زیادہ اثر پزیر ہو جائیگا۔

اسرائیل کے سیاسی نظام پر آبادکار اور ان کے حامی چھائے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارہ، بقول ان کے،” یہودیوں کی مقدس کتاب توریت کی رُو سے اور تاریخی اعتبار سے انکا قلبی گھر ہے اور اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہے”۔

فلسطینی یہودی بستیوں کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور بین الاقوامی برادری میں سے زیادہ تر اسے ناجائز خیال کرتے ہیں۔

بیلن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اگر آبادکاروں کی طرف سے اختلاف کا کوئی خطرہ نہ ہو تو یہ ان لوگوں کےلیے انتہائی آسان ہوگا جو دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔ا ن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر پہلے بحث ہو چکی ہے لیکن کنفیڈریشن اسے زیادہ قابل عمل بنائے گا۔

اس تجویز کے پیچھے مرکزی فلسطینی شخصیت اور فلسطینی مذاکرات کاروں کی ٹیم کی قانونی مشیر ،حبہ حسینی اعتراف کرتی ہیں کہ آبادکاروں سےمتعلق تجویز بڑی متنازعہ ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ منصوبہ فلسطینیوں کی اپنی ریاست کی دیرینہ خواہش کو پورا کرتا ہے۔

اس بات کو تقریباً تین عشرے ہو گئے ہیں جب اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے امن عمل شروع کرنے کےمقصد سے ،اوسلو معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے لان میں جمع ہوئے تھے۔ ان تمام برسوں میں مذاکرات کے کئی ادوار جن کے بیچ تشدد بھی ہوتا رہاکسی حتمی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے اور ایک عشرے سے زیادہ سے کوئی سنجیدہ اور تعمیری بات چیت نہیں ہوئی۔

اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، جو ایک سابق آباد کار ہیں ،فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں ۔وزیر خارجہ یائر لیپڈ ،جو باری باری کے ایک معاہدے کے تحت دوہزار تیئیس میں وزیر اعظم بننے کےلیے تیار ہیں ، بالاخر ایک دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں ۔لیکن ایک معمولی اتحادی برتری ہونے کے باعث وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔

فلسطین کی جانب سے صدر محمود عباس کی فلسطین اتھارٹی مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں تک محدود ہے، جبکہ عسکریت پسند اسلامی گروپ حماس، جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا ، غزہ پر حکمران ہے۔

بین الاقوامی برادری ابھی بھی دو ریاستی حل کو اس تنازع کا حقیقی طریقہ خیال کرتی ہے۔

بیلن اور حبہ حسینی آئیندہ ہفتے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین اور اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو گتریس کو اپنا منصوبہ پیش کریں گے۔

بیلن کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی اپنا مسودہ اسرائیلی اور فلسطینی عہدیداروں کو بھیج دیا ہے۔کسی نے اسے مسترد نہیں کیا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اسے قبول کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے حماس کو یہ مسودہ نہیں بھیجا اور مذاقاً کہا کہ مجھے ان کا پتہ معلوم نہیں ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ اور فلسطینی اتھارٹی دونوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے)



Source link