نظر رکھے ہوئے ہیں کہ چین یا کوئی اور پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد تو نہیں کر رہا؛ بائیڈن انتظامیہ



امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کی پیر کے روز چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی پالیسی ساز کمیٹی پولٹ بیورو کے رکن یانگ جائچی سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تبادلہ خیالات کے لیے رابطے کھلے رکھنے پر اتفاق ہوا۔

روم میں امریکہ اور چین کے اعلی سطحی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکی صدر بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 15 نومبر 2021 کو ہونے والی ورچوئل ملاقات کا تسلسل تھی۔ اس ملاقات میں جیک سلیوان نے یانگ سے امریکہ چین تعلقات سے متعلق کئی مسائل کے بارے میں گفتگو کی۔ اس ملاقات میں روس کی جانب سے یوکرین میں شروع کی گئی جنگ پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

دونوں افسران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تبادلہ خیال کے لیے رابطے کھلے رکھنے چاہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کو رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس امر کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں کہ آیا چین یا کوئی بھی دوسرا ملک روس کو کسی بھی طرح کی امداد تو فراہم نہیں کر رہا ، چاہے وہ اجناس کی شکل میں ہو یا معاشی یا مالیاتی۔ ترجمان کے مطابق ایسی کسی بھی قسم کی امداد پر امریکہ کو شدید خدشات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ ایک کھلی جارحیت ہے۔ انہوں نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا موقف کھل کر بتائے تاکہ کوئی ابہام نہ رہ جائے کہ چین اس معاملے میں کہاں کھڑا ہے۔

دوسری طرف چین کے اقوام متحدہ میں سفیر زہانگ جون نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں مذاکرات اور باہمی تعاون پر زور دینا چاہیے۔ انہوں نے روس یوکرین تنازع پر چین کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین تمام پارٹیوں کے درمیان رابطہ کاری اور تعاون کو مضبوط کرنے میں مدد کرنے کو تیار ہے اور امن کے لیے مذاکرات پر زور دیتا ہے۔

اس سے پہلے امریکی میڈیا نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ روس نے یوکرین میں جاری جنگ کے لیے چین سے فوجی اور معاشی امداد مانگی ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے بیجنگ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ماسکو کو پابندیوں سے بچنے میں مدد کی تو اسے بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ روس نے اپنے قریبی حلیف چین سے عسکری ساز و سامان اور امداد مانگی ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی ذرائع کے نام بتائے بغیر رپورٹ کیا ہے کہ روس نے مغرب کی جانب سے لگائی گئی سخت پابندیوں کے بعد چین سے معاشی امداد بھی مانگی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکام نے روس کی جانب سے کس قسم کی امداد مانگی گئی ہےاس کی تفصیلات دینے سے انکار کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا چین نے اس کا ردعمل دیا یا نہیں۔

ان مبینہ درخواستوں کے بارے میں جب واشنگٹن ڈی سی میں موجود چینی سفارت خانے کے ترجمان سے کئی میڈیا اداروں نے سوالات کیے تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔



Source link