والدین فوجی حکمرانوں کی مخالفت کرنے والے اپنے بچوں سے اعلان لاتعلقی کر رہے ہیں

گزشتہ تین مہینوں سے ہر روز، میانمار میں اوسطاً چھ یا سات خاندان ملک کے سرکاری اخبارات میں ان بیٹوں ,بیٹیوں بھانجیوں، بھانجوں اور پوتوں کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے اشتہار شائع کروا رہے ہیں جو برسراقتدار فوجی جنتا کی کھلے عام مخالفت کرتے ہیں۔

نومبر 2021 میں اپنے قریبی لوگوں سے لاتعلقی کے بڑی تعداد میں نوٹسز کے ذریعہ اعلانات اس وقت سامنے آنا شروع ہوئے جب فوج نے میانمار کی جمہوری حکومت کو ہٹا کراقتدار پر قبضہ کر نے کے تقریباً ایک سال بعد دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے مخالفین کی جائیدادوں پر قبضہ کر لے گی اور مظاہرین کو پناہ دینے والے لوگوں کو گرفتار کر لے گی۔

اس اعلان کے بعد میانمار میں کئی گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

لن لن بو بو، جو ایک سابق کار سیلز مین ہیں، انہوں نےجمہوری حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد اختیار پر قابض ہونے والی فوجی حکمرانی کے خلاف مسلح گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ ایسے افراد میں شامل ہیں جنہیں ان کے اپنے والدین مسترد کر چکے ہیں۔

بو بو، جن کی عمر 26 سال ہے ، میانمار سے فرار ہونے کے بعد تھائی لینڈ کے ایک سرحدی قصبے میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے وہاں سے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ماں نے انہیں بتایا تھا کہ جب فوجی بو بو کی تلاش میں ان کے خاندان کے گھر پہنچے تو وہ اس کی موجودگی سے انکار کر رہی تھیں۔ کچھ دنوں بعد بو بو نے کہا کہ وہ اخبار میں اپنے خاندان سے لاتعلق کیے جانے کا نوٹس پڑھتے ہوئے رو پڑے۔

لن لن بو بو، جس کے والدین نے اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے، فوجی حامیوں کی پٹائی کی وجہ سے اپنی ماں کے زخموں کی تصویر دکھاتے ہوئے، 26 جنوری 2022

لن لن بو بو، جس کے والدین نے اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے، فوجی حامیوں کی پٹائی کی وجہ سے اپنی ماں کے زخموں کی تصویر دکھاتے ہوئے، 26 جنوری 2022

انہوں نے رائٹرز کو بتایا، “میرے ساتھیوں نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کی کہ خاندانوں کے لیے دباؤ میں ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ لیکن میرا دل بہت ٹوٹ گیا۔”

رابطہ کرنے پربوبو کے والدین نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایسے 570 نوٹسز کا جائزہ لیا جن کے ذریعے لوگوں نے اپنے رشتہ داروں کوفوجی حکومت کی مخالفت کے باعث چھوڑدیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ‘برما کیمپین یو کے’ نامی گروپ کے سینئر ایڈوکیسی افسر وائی ہنن پونٹ تھون کے مطابق مخالف کارکنوں کے خاندانوں کو نشانہ بنانا میانمار کی فوج کا 1980 کی دہائی اور 2007 میں بدامنی کے دوران استعمال ہونے والا ایک حربہ تھا۔

لیکن یکم فروری 2021 کی بغاوت کے بعد سے اس کا استعمال کہیں زیادہ بڑھ گیاہے۔

پونٹ تھون نے بتایا کہ خاندانوں کی جانب سے افراد کو عوامی طور پر مسترد کرنے کی میانمار کی ثقافت میں ایک طویل تاریخ ہے۔

وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “خاندان کے افراد جرائم میں ملوث ہونے سے ڈرتے ہیں۔ “وہ گرفتار نہیں ہونا چاہتے، اور وہ مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتے۔”

رائٹرز نے جب فوجی حکومت کا موقف جاننا چاہا تو ایک ترجمان نے اس مسئلہ پر کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ میانمار میں لاکھوں افراد، جن میں سے اکثر نوجوان تھے، ایک سال قبل جمہوریت کے خلاف ہونے والی بغاوت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ فوج کی طرف سے مظاہروں پر تشدد کے بعد، کچھ مظاہرین بیرون ملک فرار ہو گئے یا ملک کے دور دراز علاقوں میں مسلح گروپوں میں شامل ہو گئے۔

یہ مسلح گروپس جنہیں پیپلز ڈیفنس فورسز کہا جاتا ہے معزول جمہوری حکومت کے حمایتی ہیں۔

ایک مانیٹرنگ گروپ اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پریزنرز کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران، سیکیورٹی فورسز نے تقریباً پندہ سو افراد کو ہلاک کیا، جن میں سے بہت سے مظاہرین تھے، اور تقریباً بارہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ فوج نے ان اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔

ایک صحافی سو پیائے آنگ نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اس وقت پولیس کی لاٹھیوں اور شیلڈزکے ساتھ مظاہرین کے خلاف کاروائی کو فلمایا اور اس ویڈیو کو ڈیموکریٹک وائس آف برما نیوز ویب سائٹ پر لائیو سٹریم کیا۔

جب حکام نے اس کی تلاش شروع کی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی اور نوزائیدہ بیٹی کے ساتھ تھائی لینڈ فرار ہونے سے پہلے میانمار کے مختلف مقامات پر چھپتا رہا۔

نومبر میں ان کے والد نے بھی انہیں عاق کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ دوسری طرف لن لن بو بو اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک دن گھر جا کر اپنے خاندان کی کفالت کریں گے۔

“میں چاہتا ہوں کہ یہ انقلاب جلد از جلد ختم ہو۔”

(خبر کا مواد رائیٹرز سے لیا گیا)



Source link