وزیر اعظم مودی کا کشمیر پر کل جماعتی اجلاس:’ بھارت طالبان سے بات کرسکتا ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟‘



بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی قومی سیاسی دھارے میں شامل جماعتوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بلائے گئے کُل جماعتی اجلاس میں شریک ہونے کے اعلان کردیا ہے۔ ان جماعتوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم موقع کو اپنی اپنی پارٹی کے موقف کی ترویج اور مطالبات منوانے کے لیے استعمال کریں گے۔

جمعرات کو نئی دہلی میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں بھارت کے جن 14 ممتاز سیاست دانوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ان میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، غلام نبی آزاد اور عمر عبد اللہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اجلاس میں شرکت کے لیے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کانگریس اورمارکس وادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور چار علاقائی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلزکانفرنس، جموں وکشمیراپنی پارٹی اورنیشنل پینتھرس پارٹی کے زعماء بھی شرکت کریں گے۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی یہ اجلاس طلب کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق اپنی حکومت کے 5اگست 2019 کو کیے گئے متنازع اقدام کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والا سیاسی تعطل ختم کرنے کی پہلی اور بڑی کوشش کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے پانچ اگست 2019 کوجموں و کشمیر ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا اورانہیں براہِ راست وفاق کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا درجہ دینے کا متنازع اقدام بھی کیا تھا۔

پیپلز الائنس آف گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نےاعلان کیا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اپنے مطالبات اور ایجنڈے کو بھارت کی حکومت کے سامنے غیر مبہم اور بھرپور انداز میں رکھے گی۔

پی اے جی ڈی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلزڈیموکریٹک پارٹی اور چند دیگرعلاقائی سیاسی جماعتوں اور ان کی حلیف مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا ایک اتحاد ہے۔

اس اتحاد کا بنیادی مطالبہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اوراسے دوبارہ ایک مکمل ریاست کا درجہ دلانا ہے۔

’طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟‘

منگل کو سری نگر میں پی اے جی ڈی کے لیڈروں کے ایک اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی نائب صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے جموں کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی جیسے اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کے لیے بھی کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کو فوری اور غیر مشروط طور پر بحال کرنا چاہیے کیوں کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کا جموں و کشمیر کے حالات پر مُثبت اثر پڑتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے استفسار کیا کہ اگر نئی دہلی افغانستان میں طالبان سے بات چیت کرسکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ بحال کرنے میں کیا قباحت ہے۔

اس موقعے پر پی اے جی ڈی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھا گیا کہ کیا اتحاد وزیرِاعظم کی رہائش گاہ پر جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں آئینِ ہند کی دفعات370 اور35 اے کی بحالی کا مطالبہ کرے گا تو ان کا کہنا تھا:’’ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘‘

بی جے پی کی جموں و کشمیرشاخ کا مؤقف

ادھر جموں میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اجلاس میں اس کے بقول ’گپکار گینک‘کی پینترے بازی کا توڑ کرے گی۔

بی جے پی کی جموں و کشمیر شاخ کے صدررویندر رینا نے الزام لگایا کہ ’گپکارالائنس‘ میں شامل کشمیری لیڈر ایک مرتبہ پھر اقتدار کی کرسی پر قابض ہوکر لوگوں کا استحصال کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی جماعت ایسا نہیں ہونے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کُل جماعتی اجلاس کے دوران پی اے جی ڈی کی حکمتِ عملی کا توڑ کرے گی۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے سرکردہ لیڈر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی طرف سے بلائے گئے کُل جماعتی اجلاس میں سب سے بڑا مطالبہ جموں وکشمیر کو دوبارہ ایک مکمل اور با اختیار ریاست کا درجہ دینا ہوگا۔

’کانگریس کی مشاورت جاری ہے‘

دوسری جانب انہوں نے ریاست کی خصوصی آئینی نیم خود مختاری کی بحالی اور اس بارے میں کانگریس پارٹی کے موقف کے بارے میں پوچھے گئےسوال کو ٹال دیا اور کہا کہ کُل جماعتی اجلاس کے حوالے سے کانگریس پارٹی کی ہائی کمانڈ کے ساتھ مشاورت تاحال جاری ہے۔

بھارتی وزیراعظم کے بلائے گئے اجلاس میں مدعو دوسری علاقائی جماعتیں پیپلزکانفرنس، جموں و کشمیر اپنی پارٹی اور نیشنل پینتھرس پارٹی بھی اس معاملے میں لچک دار موقف اختیار کرتی نظرآرہی ہیں۔

’کوئی بڑا فیصلہ متوقع نہیں‘

بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والا اجلاس نئی دہلی کی طرف سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری سیاسی تعطل ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش ضرور ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ کشمیرمیں میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو۔

یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے سابق پروفیسر اور تجزیہ کار ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے مطابق بنیادی معاملہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کے بارے میں جو اقدامات کیے اُن سے وہ کچھ حاصل نہیں کرسکی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد جموں و کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی بات تو دور رہی اُلٹا یہ بین الاقوامی سطح پر مزید الجھ گیاہے۔ چین نے مداخلت کی اور امریکہ میں جو بائیڈن کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی انتظامیہ اور (وزیر اعظم ) مودی کے درمیان زیادہ تال میل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’’کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر اس بدلتی سوچ یا ردِ عمل کے پس منظر میں بھارت کی حکومت دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔فاروق عبد اللہ سے لے کرمحبوبہ مفتی تک ہماری مقامی لیڈرشپ اس موقعے کے انتظار میں تھی۔ انہوں نے بلالیا اور یہ تیار ہوگئے۔ باہمی صلاح مشورے کی یہ سرگرمی محض رسمی ہے اور مقامی لوگوں کا دل بہلانے کے لیے ہے۔‘‘

ان کے نزدیک نریندرمودی کی پہل کا مقصد عالمی دباؤ کم کرنا اور بھارت پر ہونے والی نکتہ چینی کا توڑ کرنا ہے۔ افغانستان میں حالات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اُس کا بھی اس میں عمل دخل ہے۔

پروفیسر شیخ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کا کوئی بڑا نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔

وہ کہتے ہیں:’’مجھے نہیں لگتا کوئی بڑا فیصلہ ہوگا۔ جو لوگ جارہے ہیں اُن سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہاں سے وہ کوئی بڑی چیز حاصل کر کے لوٹیں گے۔ “

’آئینی خود مختاری کی بحالی کاامکان نہیں‘

بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ کہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینا نہیں ہے۔

ان رپورٹس میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت موزوں وقت پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ایک ریاست بنانے کا وعدہ کرچکی ہے۔ حال ہی میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے بھی پارلیمنٹ میں اس کا اعادہ کیا تھا۔ لیکن وہ موزوں وقت ابھی آیا نہیں ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جہاں تک جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری لوٹانے کا سوال ہے تو یہ حکومت کے زیرِ غور ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتیں 5 اگست 2019 کے بعد سے تقریبا غیر متحرک ہوکر رہ گئی ہیں۔ ان جماعتوں نے بھارتی وزیرِ اعظم کی طرف سے جموں و کشمیر پر بُلائے گئے اجلاس سے متعلق تاحال کوئی بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی ان کی قیادت نے اس پر کسی ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔



Source link

Leave a Reply