ٹرک ڈرائیوروں کا احتجاج ختم کرانے کے لیے پولیس کا ایکشن، 2 مظاہرین رہنما گرفتار

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں گزشتہ تین ہفتوں سے سراپا احتجاج ٹرک ڈرائیوروں کے مظاہرے ختم کرانے کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ جمعرات کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو مظاہرین رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔

سینکڑوں ٹرک ڈرائیور کرونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور تین ہفتوں سے پارلیمنٹ ہل کے سامنے ٹرک کھڑے کر کے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق جمعرات کی شب مظاہرین احتجاجاً ٹرکوں کے ہارن بجاتے رہے۔ اس موقع پر پولیس نے پہلے سرکاری عمارتوں کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں رکھ کر انہیں بند کر دیا جب کہ ان تمام راستوں کو بھی سیل کر دیا جو ڈاؤن ٹاؤن کے علاقے کی طرف آتے ہیں جہاں مظاہرین دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

پولیس کی اس کارروائی کا مقصد کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین کے لیے کسی بھی قسم کی امداد کو روکنا تھا۔

پولیس نے ضروری کام مکمل کرنے کے بعد مظاہرین کی قیادت کرنے والے رہنما تمارا لچ اور کرس باربر کو پارلیمنٹ ہل کے قریب سے حراست میں لے لیا تاہم پولیس نے مظاہرین کے خلاف کسی طاقت کا استعمال نہیں کیا۔

اوٹاوا کے قائم مقام پولیس چیف اسٹیو بیل نے کہا ہے کہ “ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس غیر قانونی احتجاج کو ختم کرایا جائے اور اس مقصد کے لیے ہم ایکشن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ احتجاج پرامن طور پر ختم ہو جائے ۔اس مقصد کے لیے پولیس مظاہرین سے مذاکرات کررہی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ مظاہرین اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ اگر مظاہرین پرامن طور پر واپس نہ گئے تو پولیس کے پاس کئی منصوبے ہیں۔

پولیس اور حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے انتباہ کے باوجود ٹرک ڈرائیورز پارلیمنٹ ہل کے قریب دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

جمعرات کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مظاہرین کے غیر قانونی اور خطرناک عمل کو روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرک ڈرائیوروں کا احتجاج ملک کی معیشت، عوام کے تحفظ اور ہمارے تجارتی شراکت داروں کے لیے خطرہ ہے۔

اوٹاوا پولیس نے مظاہرین کو اٹھانے کے لیے ڈاؤن ٹاؤن کے علاقےمیں 100 سے زائد مقامات پر چیک پوسٹ بنا دی ہیں اور علاقے کو سیل کردیا ہے۔ علاقے میں صرف وہاں کے مکینوں کو ہی داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

قائم مقام پولیس چیف کے مطابق مظاہرین کے ساتھ موجود بچوں کی وجہ سے پولیس تشویش کا شکار ہے اور کسی بھی قسم کے ایکشن کے لیے چائلڈ ویلفیئر ایجنسی نے بچوں کو وہاں محفوظ انداز میں نکالنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

خٰیال رہے کہ کرونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف تین ہفتوں سے جاری مظاہروں کے درمیان اوٹاو اس تحریک کا مضبوط گڑھ بن کر ابھرا ہے۔ مظاہرین کے دھرنے نے امریکہ کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو بند کرکے رکھ دیا ہےجس نے نہ صرف دونوں ممالک کو معاشی نقصان سے دوچار کیا ہے بلکہ جسٹن ٹروڈو کےلیے ایک بڑا سیاسی بحران بھی کھڑا کردیا ہے۔

اس خبر میں شامل مواد خبر رساں ادارے’ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔



Source link