پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے بنانے والے ڈنمارک کے کارٹونسٹ چل بسے



پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے والے ڈنمارک کے کارٹونسٹ کرٹ ویسٹر گارڈ 86 برس کی عمر میں چل بسے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ویسٹرگارڈ کے خاندان نے اتوار کو رات گئے ڈنمارک کے میڈیا کو ان کی موت کی تصدیق کی اور اخبار ‘برلنگسکے’ کو بتایا کہ ویسٹرگارڈ طویل بیماری کے بعد دورانِ نیند انتقال کر گئے۔

ڈنمارک کے میڈیا کے مطابق کرٹ ویسٹرگارڈ کی موت ان کے یومِ پیدائش کے ٹھیک ایک دن بعد یعنی چودہ جولائی کو ہوئی ہے۔

اسی کی دہائی کے اوائل میں ویسٹرگارڈ نے ڈنمارک کے ایک بڑے اخبار جائلینڈز پوسٹن کے لیے بطور کارٹونسٹ کام کیا تھا اور وہ بچھتر برس کی عمر تک اس روزنامے کے ساتھ منسلک رہے۔

سال دو ہزار پانچ میں ویسٹرگارد کو دنیا بھر میں اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے پیغمبر اسلام کا اخبار جائلینڈز پوسٹن میں ایک متنازع خاکہ شائع کیا۔

مسلمان اپنے پیغمبر کی تصاویر بنانے کو اہانت آمیز سمجھتے ہیں۔ وہ خاکے جو بالخصوص ویسٹرگارڈ نے بنائے ان پر مسلم دنیا میں غصے کی ایک لہر سامنے آئی اور ڈنمارک کے خلاف 2006 میں مسلم دنیا میں متشدد احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔

ڈنمارک کے پڑوسی ملک ناروے کے بھی کئی اخبارات نے متنازع خاکے شائع کیے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام میں مشتعل ہجوم نے ناروے اور ڈنمارک کے سفارت خانوں کو نذرآتش بھی کر دیا تھا۔

نارڈک ریجن میں سیاسی مبصرین کارٹونوں کے اس واقعے کو ڈنمارک اور ناروے کے لیے ان کی حالیہ تاریخ میں خارجہ پالیسی کے گھمبیر ترین بحران کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

اس غم و غصے کی وجہ سے ویسٹرگارڈ کو قتل کی متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد انہیں پولیس سے تحفظ لینا پڑا جب کہ سال 2008 میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار بھی کیا جن پر الزام تھا کہ وہ ویسٹرگارڈ کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سال 2010 میں کلہاڑی اور چاقو سے لیس اٹھائیس سالہ صومالی شہری ویسٹرگارڈ کے گھر میں داخل ہو گیا تھا۔ اس شخص کو بعد ازاں دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اخبار برلنگسکے کے مطابق ویسٹر گارڈ نے ایک بار کہا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جانا پسند کریں گے جس نے آزادی اظہار کے لیے بڑا کام کیا۔

ان کے بقول لیکن کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو مجھے ایک شیطان کے طور پر یاد رکھیں گے جس نے ایک ارب سے زائد پیروکار رکھنے والے مذہب کی تضحیک کی ہو۔

اخبار جائلینڈز پوسٹن نے پیر کے روز اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ویسٹرگارڈ کی موت کے بعد یہ مزید اہم ہو گیا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے لیے جدوجہد پر پہلے سے زیادہ زور دیا جائے۔

ویسٹرگارڈ کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ، پانچ بچے اور دس گرینڈ چلڈرن اور ایک پرپوتا شامل ہے۔



Source link

Leave a Reply