چینی ذرایع ابلاغ میں یوکرین کے بحران پر معلومات پہ کنٹرول



چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوؤا چُن یِنگ کی ایک منٹ پر مشتمل ویڈیو چینی سوشل میڈیا سروس ’وی چیٹ‘ پر اس وقت مقبول ہے۔ اس ویڈیو میں وہ امن کا پیغام دے رہی ہیں اور اسے اب تک 19,100 افراد نے لائیک کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں کہ، “اگر دو لوگ لڑ رہے ہوں تو کیا آپ انہیں ہتھیار دیں گے یا آپ انہیں معاملات سلجھانے دیں گے اور پھر یہ دیکھیں گے کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟ میرا خیال ہے کہ یہ بہت آسان فہم بات ہے۔‘‘

ہوؤا کا تبصرہ چینی وزارت خارجہ کی پچھلے ہفتے منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے لیا گیا ہے۔ یہ پریس کانفرنس 24 فروری کو اس دن منعقد ہوئی تھی جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ یہ ویڈیو چین کے سرکاری میڈیا نے اٹھالی اور ناظرین نے اسے وی چیٹ پر ڈال دیا۔ چین کی سرکاری پیغام رسانی کی مشین کیسے کام کرتی ہے، یہ اس کی ایک مثال ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ترجمان کا تبصرہ اور اس کا روایتی میڈیا سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونا ایک مثال ہے کہ چین میں یوکرین سے متعلق خبریں پچھلے دس دنوں میں کیسے گردش کر رہی ہیں۔

چین کی روس کے ساتھ امن کی کوششوں اور اس کی حمایت کی وجہ سے سرکاری میڈیا اور ریاست کی زیر نگرانی سوشل میڈیا یوکرین کی جنگ کی کوریج کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ چین روس کی جانب سے اس کے جنگی اقدامات کو حملے کے بجائے ’’خصوصی ملٹری آپریشن‘‘ کہہ رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقامی میڈیا کو واضح احکامات دیےگئے ہیں کہ اس تنازع کو کیا رنگ دینا ہے۔

ریڈیو فری ایشیا نے رپورٹ کیا ہے کہ چین میں میڈیا کو جنگ کے پہلے روز ہی یہ احکامات صادر کر دیے گئے تھے کہ اس کی کوریج یوں کی جائے کہ یہ روس کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔

نیویارک میں مقیم ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ کام کرنے والی چینی امور کی محقق یاچیو وانگ کے مطابق چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی مواد کو سنسر کر رہے ہیں۔

نئی خبر، پرانے طرز کا میڈیا کنٹرول

ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ کی کوریج اس بات کی عکاس ہے کہ چین 1990 کی دہائی سے، جب سے انٹرنیٹ عوامی طور پر میسر ہوا، میڈیا کو کیسے کنٹرول کر رہا ہے۔ چین نے کئی ویب سائٹس کو بلاک کر رکھا ہے، بہت سے مواد کو بھی ہٹایا گیا ہے اور روایتی میڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ سخت ہدایات کے مطابق خبروں کی کوریج کرے تاکہ اندرون ملک سماجی نظام قابو میں رہے اور بیجنگ کی کمیونسٹ قیادت پر عوامی اعتماد بھی بحال رہے۔

سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس کو بلاک کیا جا رہا ہے جن میں جنگ سے متعلق احتجاج کی بات کی جاتی ہے، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو۔ ایسی تمام پوسٹس جو یوکرین کی خواتین کے بارے میں جنسی، یا فحش تبصروں پر مشتمل ہوں انہیں بھی ہٹایا جا رہا ہے۔

یاچوئی کہتی ہیں کہ جو کچھ بھی وہ سنسر کر رہے ہیں وہ تبدیل ہورہا ہے، اور جس قسم کا پراپیگنڈا وہ پھیلانا چاہتے ہیں وہ بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے، لیکن طریقہ کار، کنٹرول کے درجے اور کیسے کنٹرول کیا جائےیہ سب تبدیل نہیں ہوئے۔ بس مواد تبدیل ہوتا رہتا ہے۔‘‘



Source link