چین میں ایغور آبادی کے لئے بنائے گئے سب سے بڑے ‘اصلاحی’ مرکز میں کیا ہوتا ہے؟



چین کا سب سے بڑا حراستی مرکز ویٹی کن سٹی سے دو گنا بڑا ہے۔ اور اس میں کم از کم دس ہزار لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لئے کمرے بنائے گئے ہیں۔ ارمچی نمبر 3 نامی یہ حراستی مرکز صوبے سنکیانگ کے مغرب میں دبان چینگ نامی علاقے میں واقع ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق، اس کی ٹیم کو اس مرکز کے اندر جانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔

اس مرکز میں زیرِ حراست ایغور لوگوں کو یونیفارم میں زانو طے کئے، نمبر لگے ہوئے، کمر سیدھی رکھے، قطار اندر قطار بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ ٹیلی ویژن پر بلیک اینڈ وہائٹ پروگرام میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ بیان کی جارہی ہے۔

ارمچی کا نمبر3 مرکز، حراستی کیمپ سے مقدمے کی سماعت تک کے دوران کی حراستی تنصیب بن گیا ہے، جو بظاہر ایغور اور زیادہ تر مسلم اقلیتوں کو ایک مستقل قانونی جیل میں رکھنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔

220 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس مرکز میں 240 کے قریب سیل بنائے گئے ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا حراستی مرکز ہے۔

چین نے صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے ایغوروں کی ایک معمولی تعداد کو چاقو زنی اور اور بم دھماکوں کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بنا پر ‘انتہا پسند’ قرار دیا تھا اور ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کے نام پر گذشتہ چار برسوں کے دوران دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ اقلیتی باشندوں کو حراست میں لیا ہے۔

چین نے ان مراکز کو ‘ثقافتی تربیتی سنٹرز’ کا نام دیا مگر وہاں رکھے جانے والے سابق قیدیوں کا کہنا ہے کہ یہ حراستی مراکز ہیں جن کے باہر لوہے کی نوکیلی تاریں اور حفاظتی گارڈ موجود رہتے ہیں۔

ابتداء میں چین نے ان مراکز کی موجودگی سے انکار کیا مگر پھر سخت بین الا قوامی دباؤ کے تحت 2019 میں کہا کہ ان مراکز میں رکھے جانے والے تمام رہائشی تربیت مکمل کر چکے ہیں۔

لیکن ارمچی نمبر3 کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ کئی تربیتی مراکز بند کر دئیے گئے مگر بعض کو جیلوں یا ابتدائی سماعت کے حراستی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا اور کئی مزید تنصیبات تعمیر بھی کی گئیں۔ اور جہاں بہت سے ایغوروں کو رہا کیا گیا وہیں بعض کو جیل کے اس نیٹ ورک میں منتقل کر دیا گیا۔

اس موضوع پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بعض بے گناہ لوگوں کو حراستی مرکز میں صرف اس بنا پر بھیج دیا گیا کہ انہوں نے بیرونِ ملک سفر کیا تھا یا کسی مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو میں ایغوروں پر تحقیق کرنے والے اینتھرو پولوجسٹ ڈیرن بائلر کا کہنا ہے کہ بعض قیدیوں نے کسی بھی لحاظ سے حقیقی معنوں میں کوئی جرم نہیں کیا ہوتا اور ان کے مقدمے کی سماعت بھی محض ایک دکھاوا ہوتا ہے۔

چینی حکام اس مرکز کو ماضی کے ان تربیتی مراکز سے مختلف بیان کرتے ہیں جو ان کے مطابق بند کر دیے گئے ہیں۔

ارمچی میں پبلک سیکیوریٹی بیورو کے ڈائریکٹر چاؤ چنگوے کہتے ہیں کہ ماضی کے تربیتی مراکز اور اس حراستی مرکز میں کوئی نسبت نہیں ہے۔ اس عمارت میں ایسا کوئی مرکز کبھی نہیں رہا۔

چینی عہدیدار تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ارمچی کا یہ نمبر3 مرکز اس بات کا ثبوت ہے کہ چین نے لوگوں کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کا عزم کر رکھا ہے۔ یہاں زیر تربیت افراد کو گرم کھانا دیا جاتا ہے، ورزش اور وکیلوں تک رسائی ہے اور ٹیلی ویژن کے ذریعے انہیں ان کے جرائم پر لیکچر کی کلاسز ہوتی ہیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے اور صرف ان لوگوں کو حراست کا خوف ہونا چاہئیے، جنہوں نے کوئی جرم کیا ہے۔

ایک کنٹرول روم میں چاروں طرف لگی دو درجن سکرینز کے ذریعے عملہ زیرِ حراست افراد کے ہر سیل کی فوٹیج دیکھ سکتا ہے۔ جبکہ ساتھ ہی سرکاری ٹی وی کے پروگرام بھی نشر ہوتے ہیں جو چاؤ کے مطابق قیدیوں کو دکھائے جاتے ہیں۔

چینی عہدیدار نے بتایا کہ وہ اس پر نظر رکھتے ہیں کہ قیدی کیا دیکھ رہے ہیں، کوئی ضابطے کی خلاف ورزی یا خود کو نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کی کارروائی تو نہیں کر رہے۔

چین کے عہدیدار کے مطابق، اس مرکز میں وڈیو کلاسز بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں چاؤ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے جرائم کے بارے میں بتانا بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرنا اور چوری کرنا کیوں برا ہے۔

بائیس کمروں میں کرسیاں اور کمپیوٹر ہیں جن کے ذریعے کرسیوں سے بندھے زیرِ حراست افراد اپنے وکیلوں، رشتے داروں اور پولیس سے بات کر سکتے ہیں۔

ارمچی میں پبلک سیکیوریٹی بیورو کے ڈائریکٹر چاؤ چنگوے نے بتایا کہ سماعت سے پہلے ان افراد کو 15 روز سے ایک سال تک اس مرکز میں رکھا جاتا ہے اور قانونی عمل وہی ہے جو پورے چین میں رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی تشویش کے باعث ان لوگوں کو شہر سے دور رکھنے کی غرض سے یہ مرکز تعمیر کیا گیا۔

سنکیانگ کے ترجمان سو گوئنشیانگ کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست لوگوں کی تعداد میں اضافہ، ان کے بقول، دہشت گردی کی جنگ میں سخت کاروائیوں کا نتیجہ ہے۔ اور ” بلاشبہ اس عمل میں قانون کے مطابق سزا پانے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے جو ہماری اپنے کام میں مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔”

قیدیوں کے بہت سے لواحقین کا یہ کہنا ہے کہ انہیں جھوٹے الزامات میں سزا سنائی گئی ہے۔

اگرچہ چین میں قانونی ریکارڈ تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے مگر سنکیانگ کے 90 فی صد فوجداری ریکارڈ تک رسائی ممکن نہیں۔

چینی عہدیدار اس بات سے مسلسل انکار کرتے ہیں کہ ایغور غلط الزامات کے تحت حراست میں لئے جاتے ہیں۔

سنکیانگ کے دیگر مقامات پر حراستی مراکز کی صورتِ حال مختلف جگہوں پر مختلف بیان کی جاتی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہاں سخت پابندیاں تھیں مگر جسمانی طور پر ناروا سلوک نہیں کیا گیا بعض کہتے ہیں کہ انہیں ایزائیں دی گئیں۔

ان سب واقعات کی تصدیق آزاد ذرائع سے ممکن نہیں اور سنکیانگ کے حکام ناروا سلوک کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ارمچی کے نمبر3 مرکز سے پرے اونچی اونچی دیواروں اور گارڈ ٹاورز والی ایک نئی عمارت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کے اس سوال پر کہ کیا یہ نئی حراستی تنصیب ہے،

عہدیداروں کا جواب تھا، “ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔”

(اس مضمون کا مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)



Source link

Leave a Reply