چین پابندیوں کے تناظر میں روس کے لیے کیا کچھ کرسکتا ہے اور کیا نہیں



تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی اقتصادی مدد کی چینی کوششوں سے یوکرین پر حملے کی مزاحمت کے سلسلے میں مغرب کی عائد کردہ پابندیوں کے اثرات ختم نہیں ہو سکیں گے۔

تازہ ترین پابندی

امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کو روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کیاتھا۔ واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان لیوپینگیو نے اس پر وی او اے کو ایک ای میل میں لکھا کہ ” پابندیاں کبھی بھی مسائل کے حل کی بنیاد اور موثر طریقہ ثابت نہیں ہوتیں ۔ لیو نے کہا کہ 2011 سے لے کر اب تک امریکہ نے روس پر 100 سے زیادہ پابندیاں عائد کی ہیں اور کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ چین اس معاملے پر میرٹ کی بنیاد پر اپنا موقف اور پالیسی خود طے کرتا ہے۔ لیو نے کہا کہ ” ہم امن کی تلاش اور اس کے حصول میں تعمیری کردار ادا کرتےرہیں گے۔”

اگر چہ چین کی جانب سے روس کے خلاف پابندیوں کی مخالفت اور اس کے روسی سامان خریدنے کے منصوبوں سے اس کے پڑوسی کو مددضرورملے گی، لیکن ماہرین کے مطابق، ماسکو کی موجودہ معیشت اب بھی چین کے مقابلے میں مغربی ممالک پر کہیں زیادہ انحصار کرتی ہے۔

تیل، خوراک اور مالیات

چین کے چیف بینکنگ ریگولیٹر گوو شونگینگ نے دو مارچ کو کہا تھا کہ ان کا ملک مغرب کی جانب سے روس پر عائد مالی پابندیوں پرعمل نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ چین ، جس نے تقریباًٍ دو ہفتے پرانی روس یوکرین جنگ میں خود کو غیر جانبدار رکھا ہوا ہے، روس یا یوکرین کے ساتھ اپنے تجارتی اور مالیاتی تعلقات تبدیل کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

امریکی ریاست اوریگون کی ولیمیٹ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر اور چیئر لیانگ یان نے کہا کہ” چین کے اقتصادی اوراسٹرٹیجک مفادات ہیں کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر منقطع نہ کرے اور پھر میرے خیال میں چین اس بات پر بحث کررہا ہے کہ یہ زیادہ اہم ہےکہ تناو ختم ہو اور روس کو مزید الگ تھلگ کرنے اور اسے مشتعل کرنے کے بجائے اس سے مزید پرامن مذاکرات کی کوشش کی جائے”۔

روس اور چین نےچار فروری کو اعلان تھا کہ وہ چین میں روسی تیل کی ترسیل کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں،کیونکہ چین کی برآمدی مصنوعات کی صنعت کا انحصارہی ایندھن پر ہے۔اس دن تیل نکالنے والی فرموں، چائنا نیشنل پیڑولیم کارپوریشن اور روس کی روزنیفٹ آئل کمپنی نے چین کو قازقستان کے راستے دس سال کے لیے یومیہ دو لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کے معاہدے پردستخط کیے تھے۔

روس ، چین کو خام تیل فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جس نے گزشتہ برس اس کی تیل کی درآمدات کا پندرہ اعشاریہ پانچ فیصد تیل فراہم کیا تھا۔

چین کی محدود حمایت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ روس کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے، اس کی ایک حد ہے، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ریور سائیڈ میں سیاسیات کے پروفیسر پال ڈی اینیری نے کہا کہ روس کے دور دراز گیس فیلڈز سے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی نئی پائپ لائن کی تعمیر ایک مہنگا منصوبہ ہوگا۔ یہ کہنا مشکل ہے آیا چین تھوڑا زیادہ تیل خریدے گا ، جس کا امکان موجود ہے لیکن یہ اس رقم کو پورا نہیں کرسکتا جو وہ مغربی یورپ اور بقیہ پوری دنیا میں فروخت کرکےحاصل کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ چین کے انٹربینک سیٹ اپ کا سوئفٹ سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ ایک تخمینہ ہے کہ سوئفٹ تقریبا 11ہزار اداروں کے ساتھ ہر روز 5سے 6ٹریلین ڈالر کے سودے کرتا ہے جبکہ چین کے سی آئی پی ایس نے پورے سال کے دوران صرف 12ٹریلین ڈالر کے سودے کیے ۔

تجزیہ نگار رابرٹس کہتے ہیں کہ چین اب بھی روس کا سب سے بڑا اور دیرینہ تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم چین اور روس کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو دیکھ سکتے ہیں ، یہ روس کے لیے واقعی اہمیت رکھتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت گزشتہ سال تقریبا 36فیصد بڑھ کر 147ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو روس کی برآمدات کا صرف 13.8فیصد تھا جو کہ چین کو برآمد ہوا۔اس کے مقابلے میں روس کی 45فیصد برآمدات اس کے مغربی تجارتی شراکت داروں کو تھی۔



Source link