‘کرونا کیسز میں کمی خوش آئند ہے، لیکن ہلاکتوں میں اتنی تیزی سے کمی نہیں ہو رہی’



صحت کے عالمی ادارے (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ متواتر سات ہفتوں سے کووڈ 19 کے نئے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن افریقہ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔

جنیوا میں ادارے کے صدر دفتر سے پیر کو جاری بیان میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبراسس نے کہا کہ نئے کیسز میں مجموعی کمی یقینی طور پر ایک خوش آئند خبر ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہلاکتوں میں اتنی تیزی سے کمی واقع نہیں ہو رہی ہے۔ البتہ، اس میں گزشتہ ہفتے معمولی کمی ضرور دکھائی دی ہے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ کرونا کیسز میں کمی کا معاملہ ابھی واضح نہیں چوں کہ افریقہ جیسے علاقوں میں یہ وبا پھیل رہی ہے اور ہلاکتیں بھی واقع ہو رہی ہیں؛ جہاں ویکسین، علاج، آکسیجن اور تشخیصی آلات تک رسائی محدود ہے۔

انہوں نے برطانوی طبی جریدے ‘دی لینست’ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مطالعے کا حوالہ دیا، جس سے پتا چلتا ہے کہ عالمی سطح پر افریقہ میں کووڈ 19 کے ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جو شدید بیمار ہیں اور جہاں زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں، حالاں کہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں کے مصدقہ کیسز کی تعداد کم رپورٹ ہوتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بتایا کہ دستیاب ثبوت سے پتا چلتا ہے کہ نئے ویرینٹس کے سبب وبا کے عالمی پھیلاؤ میں خاصہ اضافہ ہوا ہے؛ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ویکسی نیشن کا تناسب نسبتاً کم ہے اور ان افراد کے لیے خطرات زیادہ ہیں جنھیں ویکسین نہیں لگی۔

ان کے بقول، “اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ عالمی طور پر ویکسین کی تقسیم اتنی تیزی سے نہیں ہو پا رہی جتنی تیزی سے وائرس پھیل رہا ہے۔”

گزشتہ ہفتے جی سیون سربراہان نے ڈبلیو ایچ او کے انتظام کے تحت عالمی سطح پر’ کوویکس’ نامی ویکسین کی تقسیم کے کام میں مدد کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر ٹیڈروس گیبراسس نے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

جی سیون سمٹ کے رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا کہ ویکسین کی آٹھ کروڑ 70 لاکھ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ یہ عطیات بہت بڑی مدد کا باعث بنیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کو مزید اور تیزی سے ویکسین فراہم کی جائے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ وبا کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ آئندہ سال تک دنیا کی کم از کم 70 فی صد آبادی کو ویکسین لگائی جانی چاہیے جس کے لیے ویکسین کی 11 ارب خوراکیں درکار ہوں گی اور جی سیون اور جی 20 ممالک اس کام کی کامیابی میں معاون بن سکتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply