کیا تیل پیدا کرنے والے افریقی ممالک قیمتوں میں اضافے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ 



یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے بعد روس پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں نے تیل کی قیمت کو سو ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچادیا ہےجو آٹھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے، لیکن اس نے ساتھ ہی تیل پید ا کرنے والے افریقی ممالک نائیجریا، انگولا، لیبیا اور الجیریا کے لیے مواقع پیدا کردیے ہیں کہ وہ اپنے خام تیل کی برآمدات بڑھا کر زیادہ سے زیادہ رقم کمائیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران ،اس خدشے کے پیش نظر کہ روس یوکرین جنگ کے باعث روسی تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے، خام تیل کی قیمتیں ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں جو کہ دوہزار چودہ کے بعد سے سب سے زیادہ اور دسمبر کے بعد سے پنتالیس فیصد زیادہ ہے۔

دنیا کی خام تیل کی پیداوار میں روس کا حصہ تقریباً دس فیصد ہے جو اسے امریکہ اور سعودی عرب کے بعد عالمی سطح پر تیسرا سب سے زیادہ تیل کی پیدوار والا ملک بناتا ہے۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے اور روس پر یورپ اور امریکہ کی پابندیوں سے روسی مصنوعات کی طلب میں نمایاں کمی اور افریقی مانگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسحاق بوتی ابوجا میں پبلک فنانس کے ماہر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ” افریقہ کے لیے یہ فائدہ مند ہے اور ایک موقع ہے۔ یہ صورتحال افریقی ممالک کے لیےمواقع فراہم کرتی ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہ کس طرح اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں اور خام تیل کی عالمی طلب کو پورا کرسکتے ہیں”۔

نائیجیریا تقریباً ایک اعشاریہ نو ملین بیرل یومیہ تیل پیداکرنے والا سب سے بڑا افریقی ملک ہے۔ اس کے بعد لیبیا، انگولا اور الجیریا ہیں۔یہ ممالک تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں لیکن اقتصادی تجزیہ کارپال اینیم کے مطابق دوسری جانب نائیجیریا کو خام تیل کو صاف پیڑول میں تبدیلی کے لیے ادائیگی کرنا پڑے گی۔

اینیم نے کہا کہ ” آخر کار یہ ہماری معیشت کو متاثر کرے گا، کچھ ممالک سمجھ رہے ہیں کہ انہیں فائدہ ہوگا ، لیکن یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ خام تیل کو صاف نہیں کرتے۔

دوہزاربیس میں پیسے اور دیکھ بھال کے مسائل کی وجہ سے نائیجیریا کی تمام آئل ریفائنریاں بند کردی گئی تھیں اور ابھی تک دوبارہ نہیں کھولی جاسکی ہیں ۔ ملک اب اپنی ایندھن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

کئی ہفتوں سے نائیجیریا ملکی سطح پر درآمدشدہ لاکھوں لیٹر آلودہ تیل کو واپس لینے کے احکامات کے بعد سےقومی سطح پر ایندھن کی سپلائی کو بڑھانے کے لیے جدوجہد کررہا ہے جس کی وجہ سے مغربی افریقہ کے اس سب سے بڑی آبادی والے ملک میں تیل کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

اس کے برعکس الجزائر نے جس کے پاس ریفائنریز ہیں، ہفتے کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ یورپ کو پیڑولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہیں۔ تجزیہ کار بوتی کا کہنا ہے کہ یہ دیگر افریقی ممالک کے لیےبہترین مثال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مقامی طور پر پیدوار کے لیے صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مختلف تجارتی معاہدوں کا ،جو موجود ہیں ، جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

روس یوکرین جنگ کےدوران ماہرین کے مطابق افریقہ پر توجہ منتقل ہونا ایک نعمت اور ایک بوجھ دونوں ہی بن سکتا ہے۔



Source link